چین نے ایران میں حکومت کی تبدیلی کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی کارروائی کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہوگی۔
عالمی میڈیا کے مطابق چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے بیجنگ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ کلر ریولوشن یا حکومت کی تبدیلی کی سازش ناکام ہوگی اور اس کے لیے عوامی حمایت موجود نہیں۔
وانگ یی نے زور دیا کہ ایران سمیت تمام ممالک کی خودمختاری کا احترام کیا جائے اور مشرقِ وسطیٰ میں فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کی جائیں تاکہ کشیدگی میں اضافہ اور تنازع کے پھیلاؤ سے بچا جا سکے۔
ان کے مطابق طاقت مسئلے کا حل نہیں اور مسلح تصادم نفرت اور نئے بحرانوں کو جنم دیتا ہے۔
مزید پڑھیں: چینی روبوٹ نے 10 کلو وولٹ کی بجلی کی لائن مرمت کر کے دنیا کو حیران کردیا
انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے اصل مالک وہاں کے عوام اور ممالک ہیں، اور خطے کے معاملات کا فیصلہ بیرونی مداخلت کے بغیر ہونا چاہیے۔ وانگ یی نے تمام فریقین پر زور دیا کہ اختلافات کے حل کے لیے جلد از جلد مذاکراتی میز پر واپس آئیں اور مشترکہ سلامتی کو فروغ دیں۔
چینی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ چین خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر مشرقِ وسطیٰ میں امن، استحکام اور عالمی سطح پر سکون کی بحالی کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب ایک خفیہ امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی بھی ایران کے طاقتور عسکری اور مذہبی ڈھانچے کو ختم کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگی۔
اس رپورٹ سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے پر سوال اٹھتا ہے کہ وہ ایران کی قیادت کو تبدیل کر سکتے ہیں۔
چین نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کی بھی مذمت کی ہے۔
مزید برآں وانگ یی نے کہا کہ چین اور روس کے درمیان تعلقات مستحکم اور ناقابلِ تنسیخ ہیں، باوجود اس کے کہ مغربی ممالک روس پر یوکرین جنگ کے حوالے سے تنقید کرتے رہے ہیں۔




















