Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

دباؤ کے باوجود عراقی کرد ایران کی جنگ میں شامل ہونے سے گریزاں

اگر امریکا کی قیادت میں زمینی حملہ شروع ہوا تو وہ اتحادی افواج کے ساتھ شامل ہو سکتے ہیں

کردستان ریجن، عراق کے کرد رہنماؤں نے دباؤ کے باوجود جاری ایران جنگ میں شامل ہونے سے گریز کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ اپنے علاقے کو کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث عراقی کردستان کو خطے کی بڑی جنگ میں گھسیٹے جانے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

کرد حکام کے مطابق شمالی عراق میں موجود ایرانی کرد مسلح گروپوں نے فوری طور پر ایران پر سرحد پار حملہ کرنے کے منصوبوں کی تردید کی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکا کی قیادت میں زمینی حملہ شروع ہوا تو وہ اتحادی افواج کے ساتھ شامل ہو سکتے ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق عراقی کرد قیادت کو خدشہ ہے کہ اگر ان کی سرزمین سے ایران کے خلاف حملے ہوئے تو اس سے پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے اور ایران کی جانب سے جوابی حملوں کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

اسی وجہ سے کردستان ریجنل گورنمنٹ نے واضح کیا ہے کہ وہ علاقائی کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتی اور سفارتی حل کی حمایت کرتی ہے۔

دوسری جانب شمالی عراق میں قائم ایرانی کرد اپوزیشن گروپ، جیسے کردستان فریڈم پارٹی (PAK) اور ڈیموکریٹک پارٹی آف ایرانی کردستان (PDKI)، ایران میں ممکنہ بغاوت یا فوجی کارروائی کے لیے تیاریوں کا عندیہ دے چکے ہیں۔

ان گروپوں کے پاس ہزاروں تربیت یافتہ جنگجو موجود ہیں جو ایران کی سرحد کے قریب تعینات ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر کرد گروپ جنگ میں شامل ہوئے تو یہ ایران کے لیے ایک نیا محاذ کھول سکتا ہے اور خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے، جبکہ عراق کے لیے بھی اس تنازع میں غیر ارادی طور پر شامل ہونے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

متعلقہ خبریں