لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے مشرقی لبنان کے پہاڑی سلسلے میں ایک اسرائیلی فوجی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنا کر مار گرایا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے دوران لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے مشرقی لبنان کے پہاڑی سلسلے میں ایک اسرائیلی فوجی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنا کر مار گرایا ہے۔
تاہم، اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ایسے کسی واقعے کا علم نہیں ہے۔
حزب اللہ کے میڈیا سیل کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، یہ واقعہ پیر کی صبح اس وقت پیش آیا جب اسرائیلی فوج کے تقریباً 15 ہیلی کاپٹروں نے وادی بقاع میں واقع ‘نبی شیت’ کے علاقے میں ایک ایئربورن لینڈنگ (فوجی دستے اتارنے) کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: حزب اللہ کا فوجی کمیپ پر راکٹ حملہ، اسرائیلی وزیر خزانہ کے بیٹے سمیت 8 فوجی اہلکار زخمی
حزب اللہ کا موقف ہے کہ ان کے دفاعی یونٹس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک ہیلی کاپٹر کو براہ راست نشانہ بنایا، جس کے بعد وہ گر کر تباہ ہو گیا۔ عینی شاہدین نے بھی علاقے میں دھماکوں کی آوازیں سننے اور دھوئیں کے بادل اٹھنے کی اطلاع دی ہے۔
دوسری جانب، اسرائیلی فوجی ترجمان نے ایک پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا کہ فضائیہ کے تمام اثاثے محفوظ ہیں اور کسی بھی ہیلی کاپٹر کے لاپتہ ہونے یا تباہ ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
تاہم، اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا کہ ان کے خصوصی دستوں نے گزشتہ رات مشرقی لبنان میں ایک حساس آپریشن کیا تھا۔ یہ آپریشن دہائیوں پہلے لاپتہ ہونے والے اسرائیلی پائلٹ ‘رون اراد’ کی باقیات کی تلاش کے سلسلے میں کیا گیا تھا۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ مشن کامیابی سے مکمل ہوا اور تمام اہلکار بحفاظت واپس پہنچ گئے ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ حزب اللہ نے اسرائیلی فضائیہ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہو۔ 2006 کی لبنان جنگ کے دوران بھی حزب اللہ نے ایک اسرائیلی ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر (CH-53 Yas’ur) کو مار گرایا تھا جس میں پانچ اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔
حالیہ مہینوں میں حزب اللہ نے جدید میزائل سسٹم کا استعمال کرتے ہوئے متعدد اسرائیلی ڈرونز، جن میں جدید ‘ہرمز 450’ اور ‘ہرمز 900’ شامل ہیں، کو مار گرانے کی ویڈیوز بھی جاری کی ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ہیلی کاپٹر گرانے کا دعویٰ سچ ثابت ہوتا ہے، تو یہ جنگی محاذ پر ایک بڑی تبدیلی (Escalation) کی علامت ہوگا۔ تاہم، فی الحال آزاد ذرائع سے حزب اللہ کے اس دعوے کی تصدیق ہونا باقی ہے۔




















