ایران کے خلاف شروع ہونے والی فوجی کارروائی کے پہلے 6 دنوں میں امریکا 11.3 ارب ڈالر (تقریباً 31 کھرب پاکستانی روپے) خرچ کر چکا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ایران کے خلاف شروع ہونے والی فوجی کارروائی کے پہلے چھ دنوں میں امریکہ 11.3 ارب ڈالر (تقریباً 31 کھرب پاکستانی روپے) خرچ کر چکا ہے۔
پینٹاگون نے کانگریس کو بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ جنگی اخراجات کی یہ شرح توقعات سے کہیں زیادہ ہے، جو اوسطاً ایک ارب ڈالر روزانہ سے تجاوز کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ان اخراجات کا بڑا حصہ جدید ترین فضائی ہتھیاروں، گائیڈڈ میزائلوں اور آپریشن ایپک فیوری (Operation Epic Fury) کے تحت کی جانے والی بمباری پر صرف ہوا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا، اسرائیل اور ایران جنگ میں سینکڑوں بچے قتل اور زخمی ہوچکے ہیں، یونیسیف
پینٹاگون کے مطابق صرف پہلے 48 گھنٹوں میں 5.6 ارب ڈالر مالیت کا گولہ بارود استعمال کیا گیا، جس میں AGM-154 جیسے مہنگے گلائیڈ بم شامل ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار صرف براہ راست جنگی کارروائیوں کے ہیں، جبکہ جنگ سے قبل فوجوں کی نقل و حمل اور لاجسٹکس پر آنے والے اربوں ڈالر کے اخراجات اس میں شامل نہیں ہیں۔
پینٹاگون کی اس رپورٹ نے امریکی ایوانِ نمائندگان اور سینٹ میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
ریپبلکن اور ڈیموکریٹ ارکانِ پارلیمنٹ نے سوال اٹھایا ہے کہ اتنی بڑی رقم کی دستیابی اور امریکی دفاعی اسٹاک (Stockpile) میں تیزی سے آتی کمی کا حل کیا ہوگا۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جلد ہی کانگریس کو 50 ارب ڈالر کے ہنگامی فنڈز کی درخواست بھیجے جانے کا امکان ہے تاکہ جنگی کارروائیوں کو جاری رکھا جا سکے۔
دوسری جانب، معاشی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ تنازع طویل ہوا تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے اور امریکی معیشت پر بوجھ پڑنے سے عالمی مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
پینٹاگون کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اخراجات اور عسکری اہداف کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکے۔




















