اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری حالیہ جنگ کے حوالے سے سفارتی محاذ گرم رہا، جہاں دو اہم قراردادیں پیش کی گئیں۔
بحرین کی جانب سے ایران کے خلاف پیش کی گئی مذمتی قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی گئی، جبکہ روس کی جانب سے پیش کردہ فوری جنگ بندی کی قرارداد کو امریکا نے ویٹو کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق، بحرین نے سلامتی کونسل میں ایران کی جانب سے مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک پر کیے جانے والے حالیہ حملوں کے خلاف قرارداد پیش کی۔ اس قرارداد کو عالمی سطح پر وسیع حمایت حاصل ہوئی اور اقوامِ متحدہ کے 135 ممالک نے اس کی تائید کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل اجلاس: روس اور چین کی امریکی کارروائی کی مذمت، پاکستان کا محتاط مؤقف
سلامتی کونسل کے 15 مستقل و غیر مستقل اراکین میں سے 13 نے اس کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ روس اور چین نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں لیا۔ پاکستان نے اصولی موقف اپناتے ہوئے ایران کے خلاف اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔
دوسری جانب، خطے میں بڑھتی ہوئی انسانی تباہی اور یونیسف کی جانب سے لاکھوں بچوں کے متاثر ہونے کی وارننگ کے بعد روس نے فوری جنگ بندی کی ایک قرارداد پیش کی۔ تاہم، امریکا نے اپنے ویٹو پاور کا استعمال کرتے ہوئے اس قرارداد کو مسترد کر دیا۔
روسی قرارداد کے حق میں 4 ممالک نے ووٹ دیا، 2 نے مخالفت کی جبکہ 9 اراکین غیر حاضر رہے۔ پاکستان نے امن کی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے روس کی اس جنگ بندی کی قرارداد کے حق میں بھی ووٹ دیا۔
امریکی ویٹو پر تبصرہ کرتے ہوئے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ واشنگٹن فی الحال ایران پر فوجی دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے، جبکہ روس اور چین کا موقف ہے کہ جنگ بندی کے بغیر انسانی المیہ جنم لے رہا ہے۔
پینٹاگون کے مطابق اس جنگ پر اب تک 11.3 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ یونیسف نے خبردار کیا ہے کہ اسکولوں اور اسپتالوں پر حملوں سے بچوں کی ہلاکتیں 1,100 سے تجاوز کر گئی ہیں۔




















