تہران: ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی اہلیہ منصورہ خجستہ باقرزادہ کی موت کی خبر پر ایرانی میڈیا میں تضاد سامنے آیا ہے۔
فارس نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ منصورہ خجستہ باقرزادہ زندہ ہیں اور ان کی موت کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ یہ ایجنسی اسلامی انقلابی گارڈ کور سے وابستہ ہے اور اس نے واضح کیا ہے کہ ان کی اہلیہ حیات ہیں۔
تاہم ایران کی سرکاری ٹی وی چینل ٹو نے دو مارچ کو رپورٹ کیا تھا کہ خامنہ ای کی اہلیہ ’’گھر پر‘‘ شہید ہوگئی ہیں جب کہ دیگر ایرانی ذرائع نے بتایا تھا کہ وہ کوما میں ہیں۔
ان رپورٹس کے مطابق ان کی عمر 79 سال تھیں اور وہ 28 فروری کو ہونے والے امریکی اسرائیلی حملوں میں شدید زخمی ہونے کے بعد کوما میں چلے گئی تھیں۔
قبل ازیں ایرانی میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کیا تھا کہ خامنہ ای کی بیٹی، پوتے اور داماد بھی ان حملوں میں شہید ہوگئے تھے۔
یاد رہے کہ منصورہ خجستہ باقرزادہ کا تعلق مشہد کے ایک مذہبی تاجر خاندان سے تھا۔ ان کے والد محمد اسماعیل خواجہ مشہد کے معروف تاجر تھے جب کہ ان کے بھائی حسن خواجہ ایرانی نشریاتی ادارے کے نائب ڈائریکٹر رہ چکے ہیں۔
ان کی شادی 1965 میں آیت اللہ علی خامنہ ای سے ہوئی اور ان کے چھ بچے تھے جن میں چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو حال ہی میں ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا ہے۔
منصورہ خجستہ باقرزادہ اپنی زندگی میں عوامی تقریبات سے دور رہیں اور سیاسی معاملات میں کبھی مداخلت نہیں کی۔ وہ اپنی نجی زندگی اور مذہبی فرائض کو ترجیح دیتی تھیں۔
واضح رہے کہ خامنہ ای 28 فروری کو امریکی اسرائیلی حملوں میں شہید ہوگئے تھے اور ان کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا ہے۔


















