لبنان میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان اور شمالی اسرائیل میں اسرائیلی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے سات مختلف حملے کیے ہیں۔
حزب اللہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملے “لبنانی شہروں اور بیروت کے جنوبی مضافات پر اسرائیلی جارحیت کے جواب میں” کیے گئے۔ تنظیم کے مطابق ان کارروائیوں میں اسرائیلی فوج کے کئی اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
بیان کے مطابق حملوں کے دوران سرحدی قصبے مرکبا کے مقابل مرج کے مقام پر موجود اسرائیلی فوجی دستوں، خیام حراستی مرکز کے قریب علاقوں، خلّت العصافیر، حمامز ہِل اور شمالی اسرائیل کی بستی کفر گیلادی کو ہدف بنایا گیا۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے تاحال حزب اللہ کے ان دعوؤں پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔
لبنان میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے باعث انسانی بحران بھی سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق 2 مارچ سے جاری حملوں میں اب تک 687 افراد جاں بحق جبکہ 1,774 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ تقریباً 8 لاکھ 22 ہزار افراد بے گھر ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں میں سینکڑوں افراد مارے گئے، جن میں ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی شامل تھے۔ اس واقعے کے بعد پورے خطے میں جوابی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
حزب اللہ، جو ایران کی قریبی اتحادی تنظیم سمجھی جاتی ہے، نے 2 مارچ کو اعلان کیا تھا کہ وہ نومبر 2024 کے جنگ بندی معاہدے کے باوجود شمالی اسرائیل کو نشانہ بنائے گی کیونکہ اسرائیل لبنانی علاقوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔
ادھر اسرائیل نے بھی بیروت کے جنوبی مضافات سمیت جنوبی اور مشرقی لبنان کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ 3 مارچ کو اسرائیلی فوج نے محدود زمینی کارروائی بھی شروع کر دی ہے، جس کے بعد پورا خطہ ایک بڑی جنگ کے خدشات سے دوچار ہو گیا ہے۔




















