امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے فوجی اہداف اور خارگ جزیرہ پر مشرق وسطیٰ کی تاریخ کے طاقتور ترین حملےکیے ہیں۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ کچھ وجوہات کی بنا پر انہوں نے جزیرے کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنےکا حکم نہیں دیا، تاہم صدر نے خبردار کیا کہ اگر ایران یا کوئی اور آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ جہاز رانی میں مداخلت کرتا ہے تو وہ فوری طور پر اس فیصلے پر نظر ثانی کر سکتے ہیں۔
Moments ago, at my direction, the United States Central Command executed one of the most powerful bombing raids in the History of the Middle East, and totally obliterated every MILITARY target in Iran’s crown jewel, Kharg Island. Our Weapons are the most powerful and…
— Commentary: Trump Truth Social Posts On X (@TrumpTruthOnX) March 13, 2026
امریکی صدر نے کہا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز کے حوالے سے متعدد آپشنز پر غور کر رہا ہے اور جلد ہی اہم اقدامات کیے جائیں گے۔ انھوں نے بتایا کہ ایران اپنی بحری اور میزائل صلاحیت تقریباً کھو چکا ہے اور اب بڑی فوجی کارروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایران کے اندر شدید حملے کیے ہیں جس سے ایران کو بڑا دھچکا لگا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کے نئے سپریم لیڈر تک پہنچنے کی کوشش؟ امریکا نے بڑا اعلان کر دیا
صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کی فضائیہ اور بحریہ کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ اس کے ریڈار اور دفاعی نظام بھی تباہ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران اب اچھی پوزیشن میں نہیں اور امریکا اپنے طے شدہ ملٹری شیڈول سے بھی آگے نکل چکا ہے۔
صحافیوں کی جانب سے سوال کیا گیا کہ کیا امریکی بحریہ آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی حفاظت شروع کرے گی؟ اس پر ٹرمپ نے جواب دیا کہ یہ سب بہت جلد ہو جائے گا اور آبنائے ہرمز میں جہازوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ انہیں اندازہ نہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ کتنی دیر تک جاری رہ سکتی ہے، تاہم جب تک ضروری ہوا کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ ان کے بقول جنگ کے خاتمے کے بعد تیل کی عالمی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی جا سکے گی۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے معاملے پر امریکا اور اسرائیل کے اہداف کچھ مختلف ہو سکتے ہیں، تاہم دنیا اور مشرق وسطیٰ کو درپیش جوہری خطرے کو ختم کرنا ضروری ہے۔


















