امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ پندرہویں دن میں داخل ہو گئی ہے جبکہ حالیہ امریکی حملوں نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے۔
خارگ جزیرے پر حملہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ آئی لینڈ پر موجود تمام فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ جزیرہ خلیج فارس میں تقریباً پانچ میل طویل ہے اور ایران کی تقریباً 90 فیصد خام تیل برآمدات اسی کے ذریعے ہوتی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق حملوں میں بحری بارودی سرنگوں کے ذخائر، میزائل بنکرز اور دیگر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، تاہم تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔
کشیدگی میں اضافہ
ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایرانی جزائر پر امریکی حملہ ہوا تو ایران تمام پابندیاں ختم کر کے سخت ردعمل دے گا۔ عسکری ماہرین کے مطابق خارگ جزیرے پر حملہ عالمی تیل کی قیمتوں کو بے قابو کر سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال
صدر ٹرمپ نے کہا کہ جلد ہی امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کو سیکیورٹی فراہم کر سکتی ہے۔ دوسری جانب ایک ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ تہران محدود تعداد میں جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے پر غور کر رہا ہے، بشرطیکہ تیل کی تجارت چینی یوآن میں کی جائے۔
مزید پڑھیں: امریکا کا اڑتا میزائل پلیٹ فارم ایکس 68 اے، جدید جنگ کا نیا باب شروع
تیل کا عالمی بحران
آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش کے خدشے کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں جولائی 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ کئی ممالک اس بحران سے نمٹنے کے لیے اپنے تیل کے ذخائر استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
امریکی میرینز کی تعیناتی
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے مشرق وسطیٰ میں ایک میرین ایکشپیڈیٹری یونٹ تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے، جو عموماً تقریباً 2500 میرینز اور نیول اہلکاروں پر مشتمل فوری ردعمل دینے والی فورس ہوتی ہے۔
ایران پر مزید حملے
اسرائیل نے بھی ایران میں حملے جاری رکھنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 1300 افراد مارے جاچکے ہیں۔ اسرائیل کے مطابق حملوں میں تہران کے سیکیورٹی چیک پوسٹس، اسلحہ گوداموں اور سرکاری دفاتر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسرائیل میں نقصان
ایرانی حملوں سے گرنے والے ملبے کے باعث تل ابیب کے دو مضافاتی علاقوں میں آگ لگ گئی۔
لبنان میں ہلاکتیں
جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے میں ایک ہی خاندان کے 9 افراد شہید ہوئے جن میں 4 بچے بھی شامل تھے۔ اسرائیل نے ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں بھی بڑھا دی ہیں، جن میں دارالحکومت بیروت میں حملے شامل ہیں۔
امریکی طیارہ حادثہ
امریکی فوج کے مطابق عراق میں ایک ری فیولنگ طیارہ گرنے سے اس میں سوار تمام 6 امریکی فوجی ہلاک ہو گئے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حادثہ دشمن کی فائرنگ کے باعث نہیں ہوا، تاہم ایک ایرانی حمایت یافتہ گروپ نے اس کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی قیادت کی صورتحال
امریکا نے ایران کے اہم رہنماؤں کے بارے میں معلومات دینے پر 10 ملین ڈالر انعام کا اعلان کیا ہے، جن میں ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای بھی شامل ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہیں لیکن ان کی حالت کے بارے میں واضح معلومات نہیں۔
تہران میں فضائی آلودگی
اسرائیلی حملوں کے بعد تہران میں ایندھن کی تنصیبات پر آگ لگنے اور تیل کے اخراج کے باعث فضائی آلودگی میں شدید اضافہ ہوا ہے۔




















