Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

امریکی حملے کی زد میں آنے والا ایرانی جزیرہ خارگ، ایران کی معاشی شہ رگ

ایران کی خام تیل کی کل برآمدات کا تقریباً 90 فیصد اسی جزیرے سے گزرتا ہے، جہاں گزشتہ رات امریکا نے شدید حملہ کیا ہے

خلیج فارس کے نیلگوں پانیوں میں بوشہر کے ساحل سے محض 30 کلومیٹر دور واقع “جزیرہ خارگ” آج ایک بار پھر عالمی سرخیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔

یہ جزیرہ، جو اپنی جغرافیائی حیثیت کے لحاظ سے محض ایک زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ ایران کی معیشت کی شہ رگ کہلاتا ہے، حالیہ علاقائی کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے باعث ایک حساس ترین مقام کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

تاریخی طور پر یہ جزیرہ اپنی مرجانی چٹانوں، قدیم ہخامنشی آثار اور ہرنوں کی آماجگاہ کے طور پر جانا جاتا تھا، مگر آج اس کی شناخت دنیا کے سب سے بڑے خام تیل کے برآمدی ٹرمینلز میں سے ایک کے طور پر ہوتی ہے۔

ایران کی خام تیل کی کل برآمدات کا تقریباً 90 فیصد اسی جزیرے سے گزرتا ہے۔ یہاں موجود عظیم الشان ٹینک، لوڈینگ جیٹیز اور جدید انفراسٹرکچر اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ دنیا بھر کی انرجی مارکیٹ کو ایرانی تیل کی فراہمی ممکن ہو سکے۔

مزید پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ کشیدگی: امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کا پندرہواں دن

یہی وہ تزویراتی اہمیت ہے جس کی وجہ سے خارگ جزیرہ ایران دشمن قوتوں کے لیے ہمیشہ سے ایک ترجیحی ہدف رہا ہے۔ 1980 کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے دوران بھی اس جزیرے پر سینکڑوں بار حملے کیے گئے تھے تاکہ ایران کی معاشی ریڑھ کی ہڈی کو توڑا جا سکے، مگر اس کے باوجود یہ مرکز فعال رہا۔

حالیہ اسرائیل، امریکا اور ایران جنگ کے تناظر میں دیکھا جائے تو جزیرہ خارگ ایک بار پھر شعلوں کی زد میں ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور اسرائیل کے ساتھ جاری تصادم نے اس جزیرے کی سلامتی کو داؤ پر لگا دیا ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، امریکا کی جانب سے اس جزیرے پر موجود فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے، امریکا نے حالیہ کارروائی میں اگرچہ تیل انفراسٹرکچر کو نشانہ نہیں بنایا ہے، لیکن صدر ٹرمپ نے وارننگ دی ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو نہ کھولا تو پھر وہ اس جزیرے پر موجود تیل انفراسٹرکچر اور زخائر کو بھی نشانہ بنائے گا۔

مبصرین کا خیال ہے کہ خارگ پر کسی بھی بڑی فوجی کارروائی کا مطلب نہ صرف ایران کی معیشت کو اپاہج کرنا ہے، بلکہ عالمی سطح پر توانائی کا ایک بڑا بحران پیدا کرنا بھی ہے۔

سیاسی اور عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ جزیرہ خارگ محض ایک تجارتی مرکز نہیں بلکہ ایران کی “قومی بقا” کی علامت بن چکا ہے۔ ایران نے اس جزیرے کی حفاظت کے لیے یہاں فضائی دفاعی نظام (Air Defense Systems) کے کئی حصار قائم کر رکھے ہیں، جو اس کی تزویراتی اہمیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ تاہم، ٹیکنالوجی کی تبدیلی اور ہائپر سونک ہتھیاروں کے اس دور میں اس کی حفاظت ایک بڑا چیلنج بن کر ابھری ہے۔

مختصر یہ کہ جزیرہ خارگ کی موجودہ صورتحال اس بات کا تعین کرے گی کہ خلیج فارس میں جاری یہ کشیدگی کس سمت جائے گی۔ اگر یہ تجارتی راستہ اور ٹرمینل طویل عرصے کے لیے غیر فعال ہوتا ہے، تو اس کے اثرات صرف تہران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اس کی تپش محسوس کرے گی۔

آج خارگ کا جزیرہ امن اور جنگ کے درمیان ایک باریک لکیر پر کھڑا ہے، جہاں سے اٹھنے والا دھواں عالمی سیاست کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔

متعلقہ خبریں