Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

لبنان میں اسرائیلی حملے تیز، خاندان کے خاندان ختم، شہر خالی ہونے لگے

لبنان اسرائیل جنگ میں اب تک 773 لبنانی شہری شہید ہو چکے ہیں جن میں 100 سے زیادہ بچے شامل ہیں

لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری جنگ میں شدت آنے کے بعد پورے کے پورے خاندان ختم ہوچکے ہیں جبکہ شہر بھی تیزی سے خالی ہو رہے ہیں۔

جنوبی لبنان کے قصبے النمیریہ میں ایک اسرائیلی فضائی حملے نے ایک ہی لمحے میں تین نسلوں پر مشتمل ایک پورا خاندان ختم کر دیا۔ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک 750 سے زائد لبنانی شہری شہید ہوچکے ہیں۔

برطانوی اخبار کے مطابق بتول حمدان اپنے دو بچوں سات ماہ کی فاطمہ اور تین سالہ جہاد کے ساتھ رمضان کے دوران افطار کے لیے اپنے والدین کے گھر آئی تھیں۔ خاندان نے ابھی افطار ختم ہی کی تھی کہ اسرائیلی بمباری سے دو منزلہ مکان مکمل طور پر منہدم ہو گیا، جس کے نتیجے میں دادا احمد، دادی نجیبہ، ان کے بچے اور پوتے پوتیاں سمیت آٹھ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

واقعے کے بعد مکان ملبے کا ڈھیر بن گیا اور گھر کے سامان کے ٹکڑے، بچوں کے اسکول کے سرٹیفکیٹ اور دیگر اشیاء ملبے میں بکھری نظر آئیں۔

اخبار نے پڑوسی اور مقامی پولیس کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ حملے سے قبل کوئی وارننگ نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے وقت وہ اپنے بچوں کو اٹھا کر بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے۔

مزید پڑھیں: لبنان سے اسرائیل پر راکٹوں کی بارش، حزب اللہ کے 7 بڑے حملوں کا دعویٰ

عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق2 مارچ سے شروع ہونے والی لبنان اسرائیل جنگ میں اب تک 773 لبنانی شہری شہید ہو چکے ہیں جن میں 100 سے زیادہ بچے شامل ہیں۔

گزشتہ ہفتے صرف پانچ گھنٹوں میں وادی بقاع کے علاقے نبی شیت میں 41 افراد مارے گئے جبکہ 8 مارچ کی رات سر الغربیہ میں ایک ہی رات میں 18 افراد شہید ہوئے۔ لبنانی عوام کے لیے بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کی رفتار انتہائی تشویشناک بن چکی ہے۔

یاد رہے کہ لبنان اسرائیل جنگ اس وقت شروع ہوئی جب حزب اللہ نے ایران پر اسرئایلی حملوں کے ردعمل کے طور پر 2 مارچ کو اسرائیل پر راکٹ داغے، جس کے بعد اسرائیل نے پورے لبنان میں فوجی کارروائیاں شروع کر دیں۔

اسرائیلی حملوں کے باعث اب تک تقریباً دس لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ بیروت سمیت ملک کے کئی علاقوں میں شدید بمباری کی گئی ہے۔

جنوبی لبنان کے شہر نبطیہ، جہاں تقریباً 90 ہزار افراد رہتے تھے، اب تقریباً خالی ہو چکا ہے اور اسے “ویران شہر” قرار دیا جا رہا ہے۔

امدادی کارکن علی حریری کے مطابق اب وہاں صرف تقریباً 150 خاندان باقی رہ گئے ہیں جبکہ باقی لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں۔ امدادی ٹیمیں خستہ حال ایمبولینسوں میں شہر کا دورہ کر کے باقی رہ جانے والے لوگوں کی مدد کر رہی ہیں۔

اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے وسیع علاقوں کے لیے انخلا کے احکامات بھی جاری کیے ہیں جس کے تحت سرحد سے تقریباً 25 میل تک رہنے والے شہریوں کو شمال کی جانب منتقل ہونے کا کہا گیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام کو جبری نقل مکانی قرار دیا ہے، تاہم ہزاروں گاڑیوں کا شمال کی طرف جانا ظاہر کرتا ہے کہ لوگوں نے اس خطرے کو سنجیدگی سے لیا ہے۔

برباطانوی اخبار کے مطابق جنگ سے متاثرہ ایک شہری ریاض اللطہ، جو پانچ بچوں کے والد ہیں، نے بتایا کہ وہ اسرائیلی حکم کے بعد بیروت کے جنوبی مضافات میں اپنا گھر چھوڑ کر خیمے میں رہ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس جنگ میں حملے زیادہ غیر متوقع ہیں اور اکثر بغیر کسی پیشگی اطلاع کے کیے جاتے ہیں۔

النمیریہ کے میئر علی فرحت کے مطابق بتول حمدان نے اپنی موت سے پہلے ایک دوست کو پیغام بھیجا تھا کہ انہیں کہیں پناہ نہیں مل رہی اور وہ سڑک پر سونا نہیں چاہتیں۔

اخبار کے مطابق ان کے پیغام میں لکھا تھا: “میں گلیوں میں نہیں رہنا چاہتی، بہتر ہے اپنے گھر میں رہ کر مر جاؤں۔”

متعلقہ خبریں