ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ امریکا سے بات کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی، ہمیں امریکا کے ساتھ بات چیت میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
عباس عراقچی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ امریکی افواج خلیجی ممالک کی سرزمین سے حملے کررہی ہیں، امریکی اتحادیوں پر حملے جوابی کارروائی کے طور پر کیے۔
انہوں نے کہا کہ ہم صرف امریکی تنصیبات اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، ایرانی افواج نے کئی ممالک کے جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا، ہم پہلے سے زیادہ مستحکم اور مضبوط ہیں۔
ایرانی وزیرخارجہ نے واضح کیا کہ ہم امریکا کے ساتھ مذاکرات کیوں کریں؟ امریکا نے بات چیت کےدوران ہم پر حملہ کیا، ماضی میں امریکا کےساتھ بات چیت کا تجربہ اچھا نہیں رہا۔
قبل ازیں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے روسی میڈیا آر ٹی کو دیے گئے انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکا نے خارگ اور ابو موسیٰ جزیرے پر حملے کے لیے متحدہ عرب امارات کی سرزمین استعمال کی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ ایران اس کا بھرپور جواب دے گا۔ آبنائے ہرمز امریکا اور اس کے سہولت کاروں کے لیے بند ہے۔
انہوں نے امریکی سیکیورٹی حکمتِ عملی کو ناکام اور مسائل کو دعوت دینے والی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اب آبنائے ہرمز کے معاملے پر دیگر ممالک حتیٰ کہ چین سے بھی مدد مانگ رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے ہمسایہ ممالک سے اپیل کی کہ وہ اپنی سرزمین سے غیر ملکی جارح افواج کو نکالیں۔ امریکا کی دلچسپی صرف اسرائیل میں ہے، خطے کی حفاظت میں نہیں۔


















