امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے تیل حاصل کرنے والے ممالک کو اس اہم بحری گزرگاہ کو کھلوانے کے لیے آگے آ کر مدد کرنی چاہیے۔
وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کا صرف ایک فیصد تیل آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، اس لیے جو ممالک اس راستے پر زیادہ انحصار کرتے ہیں انہیں اس معاملے میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ دوست ممالک کو اس معاملے پر امریکا کی مدد کرنی چاہیے، تاہم انہیں یقین نہیں کہ تمام اتحادی اس سلسلے میں بھرپور تعاون کر رہے ہیں یا نہیں۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران امریکی افواج نے ایران کے ہزاروں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
ان کے مطابق اب تک ایران میں 7 ہزار سے زائد فوجی مقامات کو نشانہ بنایا جا چکا ہے اور 100 سے زائد ایرانی بحری جہازوں کو غرق کیا گیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی حملوں میں ایران کی 90 فیصد میزائل اور 85 فیصد ڈرون صلاحیت ختم کر دی گئی ہے جبکہ ایرانی ریڈار اور دفاعی نظام کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حملوں میں ایرانی قیادت کو بھی نشانہ بنایا گیا اور ایرانی رجیم کی طاقت کو بڑی حد تک ختم کر دیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق امریکا اور اس کے اتحادی ایران کے دفاعی نظام کو تیزی سے تباہ کر رہے ہیں اور زیادہ تر فوجی اور تجارتی اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے حملوں میں بھی نمایاں کمی آئی ہے اور اس کی جارحانہ صلاحیت کمزور ہو چکی ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف جنگ اب تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور امریکی فوج خطے میں صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔




















