مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکی بحریہ کا جدید طیارہ بردار جہاز جیرالڈ فورڈ مشن سے علیحدہ ہو کر واپس بندرگاہ کی جانب روانہ ہو گیا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جہاز کو حالیہ دنوں میں پیش آنے والے ایک تکنیکی واقعے کے بعد واپس بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔
بتایا گیا ہے کہ جہاز کے اندرونی حصے، خاص طور پر لانڈری سیکشن میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس پر قابو پانے میں ایک دن سے زائد وقت لگا۔
حکام کے مطابق آگ پر قابو پانے کے دوران دو اہلکار زخمی ہوئے، تاہم جہاز کے انجن اور اہم دفاعی نظام محفوظ رہے۔
اس واقعے کے باعث سیکڑوں اہلکاروں کو عارضی طور پر اپنی رہائش گاہیں چھوڑنا پڑیں، جبکہ جہاز پر موجود کل عملہ ہزاروں کی تعداد میں ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں اس نوعیت کی پیش رفت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان تناؤ اپنے عروج پر ہے اور ہر عسکری نقل و حرکت کو باریک بینی سے دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس واپسی سے نہ صرف امریکی بحری حکمت عملی پر سوالات اٹھ سکتے ہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن پر بھی اثر پڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔




















