مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عیدالفطر کی روایتی خوشیوں کو بھی متاثر کر دیا۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری تناؤ اور خلیجی خطے میں امریکی تنصیبات پر حملوں کے خدشات کے پیشِ نظر اہم فیصلے سامنے آنے لگے ہیں۔
تازہ صورتحال میں متحدہ عرب امارات نے عیدالفطر کی نماز کے حوالے سے غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس بار نمازِ عید صرف مساجد کے اندر ادا کی جائے گی۔
حکام کے مطابق کھلے میدانوں اور عیدگاہوں میں بڑے اجتماعات کی اجازت نہیں ہوگی۔
یو اے ای حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ موجودہ سیکیورٹی خدشات کے باعث کیا گیا ہے تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ساتھ ہی شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سرکاری ہدایات پر مکمل عمل کریں۔
دوسری جانب قطر نے بھی اسی نوعیت کا اقدام کرتے ہوئے عیدالفطر کے اجتماعات کے لیے نیا ضابطہ جاری کر دیا ہے۔
قطری وزارت اوقاف کے مطابق ملک بھر میں نمازِ عید صرف مساجد کے اندر ادا کی جائے گی، جبکہ کھلے مقامات پر اجتماعات پر پابندی ہوگی۔ نمازِ عید کا وقت صبح 5 بج کر 53 منٹ مقرر کیا گیا ہے۔
خطے کی موجودہ صورتحال کے باعث اس سال عیدالفطر سادگی اور احتیاط کے ساتھ منائے جانے کا امکان ہے، جہاں سیکیورٹی خدشات نے روایتی اجتماعات کو محدود کر دیا ہے۔




















