ایران عیدالفطر ایک ایسے ماحول میں منا رہا ہے جب خطے میں امریکا اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ جاری ہے اور مختلف مقامات سے حملوں اور جوابی کارروائیوں کی اطلاعات موصول ہورہی رہیں۔
رپورٹس کے مطابق برطانیہ نے امریکی افواج کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی جبکہ ایران کی جانب سے ایک مشترکہ امریکی-برطانوی تنصیب کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کی خبر بھی سامنے آئی اور اسی دوران تل ابیب میں دھماکوں کی اطلاعات بھی ملیں۔
ادھر واشنگٹن نے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے ایرانی تیل کی محدود برآمدات کی اجازت دے دی جبکہ خطے میں مزید امریکی فوجیوں کی تعیناتی پر بھی غور جاری ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدا میں جنگ بندی کے امکان کو رد کیا لیکن بعد ازاں سوشل میڈیا بیان میں عندیہ دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں فوجی کارروائیاں ختم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پیغام میں کہا کہ قومی اتحاد نے ایران کی پوزیشن کو مضبوط کیا ہے اور مخالفین کے اندرونی اختلافات کو بے نقاب کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کی طاقت کو کم سمجھا اور یہ خیال کیا کہ مختصر جنگ کے بعد اندرونی بے چینی پیدا ہوگی، تاہم ایسا نہیں ہوا۔
انہوں نے پاکستان کے ساتھ دیرینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے خطے کے دیگر ممالک سے روابط بہتر بنانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔
برطانوی حکام کے مطابق رائل ایئر فورس نے اس دوران ایران کے 40 سے زائد ڈرونز تباہ کیے۔
ایران نے بحرِ ہند میں واقع مشترکہ امریکی-برطانوی اڈے ڈیگو گارشیا کو بھی میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
امریکی میڈیا کے مطابق دو درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل داغے گئے، تاہم دونوں اپنے ہدف تک نہ پہنچ سکے، ایک فضا میں ہی ناکام ہوگیا جبکہ دوسرے کو راستے میں روک لیا گیا۔
امریکی محکمہ خزانہ نے ایک عارضی لائسنس جاری کیا ہے جس کے تحت پہلے سے لدا ایرانی خام تیل 19 اپریل تک فروخت کیا جا سکے گا، تاہم ایرانی حکام نے اسے عالمی تیل مارکیٹ پر اثرانداز ہونے کی ایک نفسیاتی کوشش قرار دیا ہے۔
عراق میں ایک امریکی فوجی اڈے پر حملے کے بعد آگ لگ گئی، جس سے اس کے ریڈار سسٹم کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں جبکہ اس سے قبل امریکی شہریوں کو ملک چھوڑنے کی ہدایت بھی دی گئی تھی۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے اسرائیل کے خلاف میزائل حملوں کی 67ویں لہر شروع کی، جس میں حیفہ اور تل ابیب کے 25 مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ ادارے نے خبردار کیا کہ ایرانی سرزمین پر مزید حملوں کی صورت میں سخت ردعمل دیا جائے گا۔
دریں اثناء امریکی افواج نے آبنائے ہرمز میں ایرانی ڈرونز اور بحری اثاثوں پر حملے کیے۔
مقامی میڈیا کے مطابق تہران، کرج اور اصفہان سمیت کئی ایرانی شہروں میں فضائی حملوں کی اطلاعات ہیں۔
آخر میں سوئٹزرلینڈ نے اعلان کیا کہ وہ اس تنازع کے دوران امریکا کو اسلحے کی برآمدات کی منظوری عارضی طور پر معطل کر رہا ہے، کیونکہ اس کی پالیسی کے تحت ایسے ممالک کو اسلحہ فراہم نہیں کیا جاتا جو ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ میں شامل ہوں۔



















