ایران نے اسرائیل کے جوہری مقام کے قریب شہروں ڈیمونا اور عراد پر میزائلوں سے حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک، 150 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔
یہ حملہ ایران کے بوشہر پاورپلانٹ اور نطنز ایٹمی تنصیبات پرحملے کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔
ایران کے کلسٹر وار ہیڈمیزائل حملوں میں جنوبی شہر ڈیمونا جہاں اسرائیل کی مرکزی جوہری تنصیب واقع ہے اور قریبی شہر عراد میں 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ کے آغاز کے بعد سب سے بڑی کشیدگیوں میں سے ایک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے اسرائیلی کا ایف 16 طیارہ تباہ کر کے عید پر عوام کو بڑا تحفہ دے دیا
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے ہفتے کے روز ہونے والے ان حملوں کو ایران کے نطنز جوہری افزودگی مرکز پر اسی دن کیے گئے حملے کا جواب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کاکوئی بھی علاقہ ایرانی میزائلوں کی پہنچ سےدور نہیں، دشمن کو ہتھیار ڈال دینے چاہئیں اس سےپہلے کہ بہت دیر ہوجائے۔
واضح رہے کہ ان حملوں سے اس تنازع میں ایک نئی شدت آگئی ہے، جو اب چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے۔
اسرائیلی ایمرجنسی سروسز کے مطابق، عراد میں کم از کم 88 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے 10 کی حالت تشویشناک ہے، جبکہ شہر کے مرکز میں بڑے پیمانے پر تباہی کی اطلاعات ہیں۔
ڈیمونا میں بھی 39 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں ایک 10 سالہ بچہ بھی شامل ہے جس کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ پیرا میڈکس کے مطابق اسے متعدد شیل کے ٹکڑے لگے، جبکہ کئی رہائشی عمارتیں تباہ ہو گئیں۔




















