ایران نے سخت لہجے میں خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے بجلی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا تو اس کا جواب نہایت تباہ کن ہوگا۔
ایرانی فوج کے مرکزی کمانڈ کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے واضح کیا کہ کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں ایران صرف تیل و گیس ہی نہیں بلکہ پانی کی فراہمی، صاف پانی کے پلانٹس اور جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے خصوصاً وہ تنصیبات جو امریکا اور اسرائیل سے جڑی ہوں۔
یہ سخت ردعمل ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو بحال نہ کیا گیا تو ایرانی پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی قیادت کے شہید رہنما علی لاریجانی بھی خبردار کر چکے تھے کہ اگر ایران کے بجلی کے ڈھانچے پر حملہ ہوا تو پورا خطہ محض آدھے گھنٹے میں اندھیرے میں ڈوب سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بیانات نہ صرف خطے میں پہلے سے موجود تناؤ کو مزید بھڑکا سکتے ہیں بلکہ عالمی توانائی سپلائی اور معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ صورتحال بتا رہی ہے کہ معمولی چنگاری بھی بڑے تصادم کو جنم دے سکتی ہے۔




















