امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ دنوں میں جنگ کے مکمل خاتمے سے متعلق بات چیت ہوئی ہے، تاہم ایران نے ایسے کسی بھی مذاکرات کی سختی سے تردید کر دی ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ان رابطوں کے نتیجے میں ایران کے پاور پلانٹس پر ممکنہ امریکی حملے پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیے گئے ہیں، جس کے فوری اثرات عالمی تیل اور گیس کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں سامنے آئے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹرمپ نے بتایا کہ امریکی وفد کی نمائندگی اسٹیو وٹکوف اور جیریڈ کشنر نے کی اور اگر یہ پیش رفت جاری رہی تو تنازع کے حل کی امید ہے، بصورت دیگر کارروائیاں جاری رہیں گی۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے ان مذاکرات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نوعیت کی کوئی براہ راست بات چیت نہیں ہوئی۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے دوروز قبل ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 48 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن دی تھی، بصورت دیگر ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی تھی۔
ادھر کیئر اسٹارمر اور صدر ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا جس میں دونوں رہنماؤں نے عالمی تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے آبنائے ہرمز کو کھولنے کو انتہائی ضروری قرار دیا۔




















