فلپائن کے صدر فرڈیننڈ مارکوس جونیئر نے ایران میں جاری جنگ کے باعث پیدا ہونے والے عالمی توانائی بحران کے پیشِ نظر ملک میں قومی انرجی ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے تیل کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کا اعلان کیا ہے۔
ٹیلی وژن خطاب میں صدر مارکوس کا کہنا تھا کہ حکومت نئے ذرائع سے تیل کے حصول کے لیے سرگرم ہے اور ایک ملین بیرل تیل فوری طور پر ذخائر میں شامل کیا جائے گا، جو پہلے سے موجود 45 دن کے اسٹاک کو مزید مستحکم کرے گا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ملک میں صرف ایک یا دو نہیں بلکہ تیل کی مسلسل ترسیل جاری رکھی جائے گی۔
فلپائن، جو اپنی 98 فیصد تیل کی ضروریات خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے، ایران جنگ کے بعد انرجی ایمرجنسی نافذ کرنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔
آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں شدید جھٹکے لگے ہیں، جس سے تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ اور قلت پیدا ہوئی ہے۔
صدر مارکوس کے مطابق ایمرجنسی کے نفاذ سے حکومت کو قانونی اختیار حاصل ہوگا کہ وہ توانائی کے استحکام اور معیشت کے تحفظ کے لیے ہنگامی اقدامات کر سکے۔
اس سلسلے میں ایک خصوصی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے جو ایندھن، خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائے گی۔
فلپائنی سفیر جوز مینوئل روموالدیز کے مطابق حکومت واشنگٹن کے ساتھ مل کر ایسے ممالک سے تیل درآمد کرنے کے لیے رعایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے جن پر امریکی پابندیاں عائد ہیں۔
ادھر ملک کی بڑی مزدور تنظیم نے اس اقدام کو حکومت کی ناکامی قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایمرجنسی قوانین مزدوروں کے احتجاج اور ہڑتال کے حق کو محدود کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب معروف کاروباری شخصیت مانوئل وی پانگلینن نے حکومتی فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ توانائی بحران کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کر رہا ہے اور حکومت کو معیشت کو سہارا دینے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرنے چاہئیں۔



















