گھانا نے یورپی یونین کے ساتھ سیکیورٹی اور دفاعی شراکت داری پر دستخط کرکے ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے اور ایسا کرنے والا پہلا افریقی ملک بن گیا ہے۔
یہ اہم معاہدہ یورپی یونین کے سیکیورٹی و دفاعی فریم ورک کے تحت کیا گیا ہے، جس میں انسداد دہشت گردی، سائبر سیکیورٹی اور علاقائی استحکام پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
اس شراکت داری میں پہلے ہی برطانیہ، کینیڈا، جاپان اور ناروے سمیت کئی ممالک شامل ہیں۔
گھانا کی نائب صدر نائنا جین اوپوکو اجیمنگ نے دارالحکومت اکرا میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں درپیش سیکیورٹی چیلنجز، خاص طور پر ساحل (Sahel) کے علاقے میں، مشترکہ حکمت عملی اپنانے میں مدد دے گا۔
انہوں نے مغربی افریقہ میں بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے برکینا فاسو میں گھانین تاجروں کی حالیہ ہلاکتوں کو خطے کی سنگین صورتحال کی مثال قرار دیا۔
یورپی یونین کی نمائندہ کاجا کالاس نے کہا کہ یورپ اور افریقہ کی سیکیورٹی ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتی ہے اور اس معاہدے کے تحت دونوں فریق انسداد دہشت گردی، تنازعات کی روک تھام اور سائبر سیکیورٹی کے شعبوں میں قریبی تعاون کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ اس شراکت داری کے تحت گھانا کو جدید فوجی سازوسامان بھی فراہم کیا جائے گا، جن میں نگرانی کرنے والے ڈرونز، اینٹی ڈرون گنز اور موٹر سائیکلیں شامل ہیں۔
کاجا کالاس نے روس یوکرین جنگ کو یورپ کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے اثرات دیگر خطوں، خصوصاً افریقہ، تک بھی پہنچ رہے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ معاشی مشکلات کے باعث افریقی شہریوں کو بیرونی جنگوں میں شامل ہونے کے لیے راغب کیا جا رہا ہے، جو ایک تشویشناک رجحان ہے۔
یہ معاہدہ نہ صرف دفاعی تعاون کو فروغ دے گا بلکہ مغربی افریقہ میں امن و استحکام کے لیے بھی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔



















