بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اس ہفتے اسلام آباد میں ہوسکتے ہیں۔
رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری مسئلے کا حل فوجی نہیں ہوسکتا، یہ مذاکرات جوہری معاملے سے آگے بھی جاسکتے ہیں۔ ان کے مطابق میزائل پروگرام، اتحادی ملیشیاز اور سیکیورٹی ضمانتیں بھی مذاکرات میں زیر بحث آئیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ تین ہفتوں کی جنگ نے صورتحال بدل دی ہے۔ ایران کا معاشی اور توانائی کا ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ایران کی جوہری تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے لیکن یہ نقصان فیصلہ کن نہیں ہے اور ایران اب بھی مکمل جوہری صلاحیت رکھتا ہے۔
آئی اے ای اے سربراہ نے کہا کہ امریکا صفر یورینیم افزودگی پر زور دے سکتا ہے جب کہ یورینیم افزودگی کی 5 سے 10 سال کی عارضی معطلی بھی ممکن ہے۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے جب کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کے لیے آمادگی ظاہر کی تھی۔



















