مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے دوران 6 عرب ممالک نے ایران کے خلاف مشترکہ طور پر سخت مؤقف اختیار کر لیا ہے۔
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق اردن، قطر، کویت، سعودی عرب، بحرین اور یو اے ای کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں ایران کے حملوں کی شدید مذمت کی گئی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے براہ راست یا پراکسیز کے ذریعے کی جانے والی کارروائیاں دیگر ممالک کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ مزید کہا گیا ہے کہ عراق کی سرزمین سے ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کے حملے بھی عالمی قوانین کے منافی ہیں۔
مزید پڑھیں: ایرانی حملوں کی 50 ویں لہر؛ سعودی عرب کا ایران کے 10 ڈرون مار گرانے کا دعویٰ
عرب ممالک نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران فوری طور پر ہمسایہ ممالک کے خلاف دھمکیاں اور جارحیت بند کرے، جبکہ عراقی حکومت سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو ایسے حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔
اعلامیے میں زور دیا گیا کہ عرب ممالک کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔ ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 کے تحت ایران پر لازم ہے کہ وہ فوری طور پر حملے بند کرے۔
یہ مشترکہ مذمتی اعلامیہ قطر کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیا گیا ہے، جو خطے میں بڑھتی ہوئی سفارتی صف بندی کی عکاسی کرتا ہے۔




















