اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ بے قابو ہوسکتی ہے، جس کو فوری روکنا ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ ستائیسویں دن میں داخل ہوچکی ہے، عالمی سطح پر ایران، امریکا اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تشویش میں اضافہ ہوگیا ہے، جبکہ سفارتی اور عسکری بیانات نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریسن نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف بے قابو جنگ کو فوری طور پر روکنا ہوگا۔ ان کے مطابق مشرق وسطیٰ کا تنازع کنٹرول سے باہر ہو چکا ہے اور دنیا ایک بڑی جنگ کے خطرے سے دوچار ہے۔ انہوں نے امریکا اور اسرائیل پر زور دیا کہ جنگ کا خاتمہ کریں، کشیدگی کم کریں اور سفارتکاری کی طرف واپس آئیں، ساتھ ہی بین الاقوامی قوانین کے احترام پر بھی زور دیا۔
دوسری جانب ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دعویٰ کیا ہے کہ دشمن قوتیں ایران کے ایک جزیرے پر قبضے کی تیاری کر رہی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں اہم تنصیبات پر بھرپور حملے کیے جائیں گے، جبکہ دشمن کی ہر نقل و حرکت مکمل نگرانی میں ہے۔
مزید پڑھیں: امریکی حملے میں اسکول کی 160 بچیوں کی شہادت، اقوام متحدہ نے تحقیقات کا مطالبہ کر دیا
امریکا کی جانب سے وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے اگر حقیقت تسلیم نہ کی تو امریکا تاریخ کا سب سے بڑا حملہ کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ ایران کے اثر و رسوخ کو خطے سے ختم کرنا چاہتے ہیں، جبکہ جنگ کے خاتمے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے۔
ادھر ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے امریکی F-18 طیارے کو نشانہ بنایا، تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کوئی امریکی طیارہ نہیں گرایا گیا۔
انسانی حقوق کے محاذ پر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے ایران میں اسکول پر حملے کے بعد ہنگامی اجلاس طلب کیا اور خلیجی ممالک پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے متاثرین کو معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا۔
ایران نے امریکی جنگ بندی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جنگ کا خاتمہ اس کی اپنی شرائط اور ٹائم لائن کے مطابق ہوگا۔ ایرانی حکام کے مطابق ان کی بنیادی شرائط میں حملوں کا فوری خاتمہ، مستقبل میں جنگ کی ضمانت، نقصانات کا معاوضہ، اور پورے خطے میں جنگ بندی شامل ہیں۔
جوہری معاملے پر انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا کہ جوہری مسئلے کا حل فوجی نہیں بلکہ سفارتی ہے۔ ان کے مطابق ایران کی جوہری تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے مگر اس کی صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات اسلام آباد میں ہو سکتے ہیں، جن میں میزائل پروگرام، علاقائی ملیشیاز اور سیکیورٹی ضمانتوں پر بھی بات ہوگی۔
مجموعی طور پر صورتحال انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں ایک طرف سخت بیانات اور عسکری دعوے ہیں، تو دوسری جانب سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، تاہم کسی بڑے تصادم کا خطرہ بدستور موجود ہے۔




















