ایران کی طاقتور فورس اسلامی پاسدارانِ انقلاب نے خطے میں قائم امریکی اور اسرائیلی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کھلی دھمکی دے دی ہے، ساتھ ہی عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر ایسے مقامات سے دور رہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے “آپریشن وعدہ صادق 4” کے حوالے سے جاری ایک تازہ بیان میں مغربی ایشیا کے عوام کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اور صہیونی افواج اپنی کمزوری چھپانے کے لیے شہری علاقوں اور عوامی تنصیبات کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہیں، جس سے عام شہریوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران کے خلاف کارروائیوں میں ملوث افواج کو جہاں بھی پایا گیا، انہیں نشانہ بنانا “فرض” سمجھا جائے گا۔ اسی تناظر میں خطے کے عوام کو خبردار کیا گیا کہ وہ امریکی فوجی مراکز اور حساس تنصیبات کے قریب جانے سے گریز کریں تاکہ ممکنہ حملوں کے دوران کسی جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
یہ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر کیے گئے اچانک حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی نے نیا رخ اختیار کیا۔
ان حملوں میں ایران کی اعلیٰ قیادت کو شدید نقصان پہنچا، جن میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور پاسدارانِ انقلاب کے کئی اہم کمانڈرز شامل تھے۔
اس کے جواب میں ایران نے بھرپور ردعمل دیتے ہوئے اسرائیلی اہداف اور خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن میں متعدد فوجی ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ شہری نقصانات بھی رپورٹ ہوئے۔
متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین اور قطر سمیت کئی ممالک میں ان حملوں کے اثرات دیکھے گئے، جہاں عام شہری بھی زد میں آئے۔
تازہ دھمکیوں کے بعد خطے میں خوف و ہراس کی فضا گہری ہو گئی ہے اور ماہرین کے مطابق اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو یہ کشیدگی کسی بڑے تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔



















