چین میں وزن کم کرنے کے حوالے سے ایک ایٹنگ ہیک خوب وائرل ہورہی ہے جس میں لوگ منہ کے اوپر پلاسٹک ریپ لگا کرکھانا یا اپنی من پسند غذا منہ میں ڈالتے ہیں تاکہ جسم کو یہ دھوکا دیا جا سکے کہ وہ کھانا کھا رہے ہیں، مگر اس احتیاط کے ساتھ کہ کھانا حقیقت میں لگنے نہ پائے۔
وزن کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کھانے کی مقدار کم کی جائے تاکہ زیادہ کیلوریز سے بچا جاسکے جو وزن بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
چینی سوشل میڈیا پر وزن کم کرنے کا ایک نیا وائرل رجحان تیزی سے پھیل رہا ہے، اور یہ خاصا عجیب بھی ہے جس میں نوجوان اپنے منہ پر پلاسٹک ریپ (کلنگ) چڑھا لیتے ہیں تاکہ کوئی کیلوریز ان کے جسم تک نہ پہنچ سکیں۔ پھر وہ اسی پلاسٹک کے اوپر سے کھانے کو زور زور سے چبانے کی اداکاری کرتے ہیں، اور بعد میں کھانا نکال کر پھینک دیتے ہیں۔
اس عجیب رجحان کا بنیادی خیال نہایت سادہ ہے۔ پلاسٹک ریپ منہ کے اندررکاوٹ کا کام کرتا ہے جو کیلوریز کو جسم میں داخل ہونے سے روکتا ہے، جبکہ اس کے برعکس دماغ کو یہ تاثر ملتا ہے کہ اسے غذا ملنے والی ہے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس طرح بغیر کیلوریز استعمال کیے پیٹ بھرنے کا احساس پیدا ہو جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا روزہ رکھنے یا بھوکا رہنے سے وزن کم ہوتا ہے؟ نئی تحقیق میں حقیقت سامنے آگئی
اس ضمن میں ناقدین کا کہنا ہے کہ محض کھانے کی نقل کرنے سے جسم کو نہ توانائی ملتی ہے اور نہ غذائیت، بلکہ وقت کے ساتھ یہ خواہشِ طعام کو مزید بڑھا بھی سکتی ہے۔
A trend among young people in China: For fear of obesity and in order to feel full, they place a plastic bag over their mouth while eating.pic.twitter.com/WZmOHS9LvO
— China pulse 🇨🇳 (@Eng_china5) February 17, 2026
تاہم ماہرین نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نیا رجحان صحت کے لیے ایک بڑے بحران کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ اس طرح کا رویہ بلیمیا اور اینوریکسیا جیسے ایٹنگ ڈس آرڈرز کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ دماغ کو اس بات کا عادی بنا دیتا ہے کہ وہ کھانے کے ذائقے اور ساخت سے لطف اندوز ہو، مگر کیلوریز حاصل نہ کرے۔
اس عجیب وزن کم کرنے کے طریقے کو اپنانے والے افراد مائیکرو پلاسٹکس کی بڑی مقدار نگلنے کے خطرے سے بھی دوچار ہو سکتے ہیں، کیونکہ پلاسٹک ریپ کو چبانے سے اس کے باریک ذرات ٹوٹ کر لعاب میں شامل ہو سکتے ہیں اور سانس اور نظامِ ہاضمہ میں جا سکتے ہیں، جس سے مختلف پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں۔
اگرچہ پلاسٹک ریپ کے ذریعے کھانے کا یہ عمل ابتدا میں ایک انوکھا تجربہ تھا، مگر جلد ہی یہ اب ایک باقاعدہ انٹرنیٹ ٹرینڈ بن گیا ہے جسے اب تک لاکھوں ویوز حاصل ہوچکے ہیں، جبکہ ساتھ سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کا آغازبھی ہوگیا ہے۔














