پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کے درمیان تیسرے جائزے کے سلسلے میں ورچوئل مذاکرات جاری ہیں، جس میں ایف بی آر کے لیے نئے ٹیکس اقدامات کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کی ٹیکس وصولی کو بہتر بنانے کے لیے نئے اسٹرکچرل بینچ مارکس متعارف کرانے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف کی طرف سے ایف بی آر کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے سخت نگرانی کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور اس میں آڈٹ کے عمل کو مضبوط بنانے اور ڈیجیٹل انوائسنگ کے نفاذ پر زور دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر کا 7100 ارب روپے کی ممکنہ ٹیکس چوری روکنے کیلئے بڑا فیصلہ
ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف نے ٹارگٹ بیسڈ ٹیکس سسٹم کو فروغ دینے پر زور دیا ہے اور کاغذی اقدامات کی بجائے عملی نتائج کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ایف بی آر کی کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے نئی شرائط بھی متوقع ہیں۔
اس کے علاوہ، آئی ایم ایف نے پاکستان کے ٹیکس نظام میں شفافیت اور میرٹ کا نفاذ بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ٹیکس وصولی میں مؤثر اصلاحات متعارف کرائے تاکہ نظام میں بہتری لائی جا سکے۔




















