ایران کی خواتین فٹبال ٹیم ایک پیچیدہ اور غیر یقینی سفر کے بعد بالآخر وطن واپس پہنچ گئی، جہاں ٹیم کے چند ارکان نے بیرونِ ملک دی گئی پناہ کی درخواستیں واپس لے لیں۔
رپورٹس کے مطابق ٹیم نے آسٹریلیا سے واپسی کا سفر شروع کیا تھا، جہاں چھ کھلاڑیوں اور ایک آفیشل نے ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پناہ مانگی تھی۔
تاہم بعد ازاں ان میں سے پانچ افراد نے اپنی درخواستیں واپس لیتے ہوئے وطن واپسی کا فیصلہ کیا۔
ٹیم بدھ کے روز ترکی کے راستے زمینی سرحد عبور کر کے ایران میں داخل ہوئی۔ کھلاڑی استنبول سے مشرقی ترک شہر ایغدر پہنچے، جہاں سے وہ بس کے ذریعے سرحدی گزرگاہ تک گئے اور امیگریشن مکمل کرنے کے بعد ایران میں داخل ہوئے۔
یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب اے ایف سی وومینز ایشین کپ کے دوران چند کھلاڑیوں نے قومی ترانہ گانے سے گریز کیا، جس کے بعد سرکاری میڈیا نے انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی جب خطے میں جنگی کشیدگی عروج پر تھی۔
بعد ازاں ٹیم کے ارکان کو کوالالمپور میں دوبارہ اکٹھا کیا گیا، جہاں سے وہ وطن واپس روانہ ہوئے۔ ایرانی فٹبال فیڈریشن کا کہنا ہے کہ کھلاڑی اپنے خاندانوں اور وطن سے دوبارہ ملنے کے لیے واپس آئے ہیں۔
دوسری جانب دو کھلاڑی اب بھی آسٹریلیا میں موجود ہیں اور مقامی کلب کے ساتھ ٹریننگ جاری رکھے ہوئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

















