Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ابتدائی کائنات کا راز لیے انتہائی نایاب ستارہ دریافت

ایسے ستاروں کو پاپیولیشن II کہا جاتا ہے، اور یہ انتہائی نایاب ہوتے ہیں یہ خاص ستارہ جسے پک II 503  نام دیا گیا ہے۔

اربوں سال پہلے کائنات مکمل تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی یہ تب تک جاری رہا جب تک پہلے ستارے روشن نہیں ہوئے، جس کے بعد خلا شفاف ہو گئی اور روشنی پھیلنے لگی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان ابتدائی ترین ستاروں میں سے ایک بھی آج تک براہِ راست دریافت نہیں ہوا ان ستاروں کو پاپیولیشن 3 کہا جاتا ہے۔

اب ماہرینِ فلکیات نے اس کا قریب ترین متبادل ستارہ دریافت کر لیا ہے ایک ایسا ستارہ جس میں کیمیائی عناصر نہایت کم مقدار میں موجود ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ان اولین ستاروں کے فوراً بعد وجود میں آیا ہے۔

ایسے ستاروں کو پاپیولیشن II کہا جاتا ہے، اور یہ انتہائی نایاب ہوتے ہیں یہ خاص ستارہ جسے پک II 503  نام دیا گیا ہے۔

ماہرین فلکیات اسے ایک انتہائی اہم دریافت قرار دے رہیں ہیں یہ ملکی وے سے باہر دریافت ہونے والا سب سے کم آئرن (لوہا) رکھنے والا ستارہ ہے  جو ایک قدیم بونے کہکشاں میں واقع ہے جس کی عمر 10 ارب سال سے زیادہ ہے۔

اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے ماہر فلکیات کے مطابق کائنات کا کوئی مرکز نہیں اس لیے اگر ابتدائی ستارے آج بھی موجود ہیں تو وہ ہر جگہ پھیلے ہوئے ہیں تاہم سائنسدانوں کا خیال ہے کہ پاپیولیش  III ستارے بہت زیادہ بڑے تھے اور اسی وجہ سے ان کی زندگی بہت مختصر تھی۔

ابتدائی کائنات میں صرف ہائیڈروجن اور ہیلیم جیسے ہلکے عناصر موجود تھے تاہم جب ستارے بننے کا عمل شروع ہوا تو انہوں نے اپنے اندر ایٹمز کو ملا کر آئرن جیسے بھاری عناصر پیدا کیے۔

یہ بھی پڑھیں: جدید دوربینوں کی مدد سے کائنات کے پوشیدہ راز سامنے آگئے

جب یہ ستارے اپنی توانائی ختم کر دیتے، تو زبردست دھماکوں (سپرنووا) کے ساتھ پھٹ جاتے اور یہ بھاری عناصر خلا میں بکھر جاتے انہی عناصر سے اگلی نسل کے ستارے بنتے گئے۔

خیال رہے کہ ستارہ جتنا نیا ہوگا اس میں بھاری عناصر (میٹلز) اتنی ہی زیادہ ہوں گے اس کے برعکس یہ  ستارہ جتنا قدیم ہوگا اس میں یہ عناصر کم ہوں گے۔

 پک II 503 تقریباً 150,000 نوری سال دور ایک چھوٹی اور مدھم بونے کہکشاں پکٹر II میں واقع ہے، جو ملکی وے کے گرد گردش کر رہی ہے یہ ایک “فوسل کہکشاں” ہے، یعنی اس میں موجود تمام ستارے بہت قدیم ہیں اور اربوں سال سے اس میں نئے ستارے نہیں بنے۔

تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ اس ستارے میں سورج کے مقابلے میں 43,000  گنا کم آئرن اور 160,000  گنا کم کیلشیم ہے تاہم کاربن کی مقدار نسبتاً 3,000  گنا زیادہ ہے۔

یہ غیر متوازن ترکیب اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ ستارہ ایک کمزور سپرنووا دھماکے کے ملبے سے بنا جس میں بھاری عناصر واپس رہ گئے جبکہ ہلکے عناصر خلا میں پھیل گئے۔

اگر دھماکہ زیادہ طاقتور ہوتا تو یہ عناصر اس چھوٹی کہکشاں سے باہر نکل جاتے اور یہ ستارہ بن ہی نہ پاتا۔

یہ دریافت ہمیں ہماری اپنی کہکشاں ملکی وے کے بارے میں کئی راز کھول سکتی ہے کیونکہ اس نے وقت کے ساتھ کئی چھوٹی کہکشاؤں کو اپنے اندر ضم کیا ہے، اور ممکن ہے کہ پکٹر II بھی مستقبل میں اسی انجام سے دوچار ہو۔