Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سانحہ گل پلازہ: مزید تین افراد کے اعضا مل گئے، تعداد 23 ہوگئی، سرچ آپریشن جاری

سانحہ میں اب تک 75 افراد کے لاپتہ ہونے کی تصدیق ہوئی ہے، ڈی سی ساؤتھ

گل پلازہ میں پیش آنے والے المناک سانحے کے بعد ملبے سے انسانی اعضا نکالنے کا سلسلہ تاحال جاری ہے، مزید تین افراد کے اعضا تلاش کرلیے گئے ہیں۔

سربراہ شناخت پروجیکٹ سی پی ایل سی عامر حسن کے مطابق مزید تین افراد کے انسانی اعضا سول اسپتال کراچی منتقل کر دیے گئے ہیں۔

عامر حسن نے بتایا کہ اب تک 23 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ ڈی این اے کے لیے نمونے بھی حاصل کر لیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گل پلازہ سانحے میں جاں بحق افراد کی تعداد 23 ہو چکی ہے، شناخت کا عمل ڈی این اے ٹیسٹ کی مدد سے مکمل کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مزید انسانی اعضا بھی سول اسپتال لائے گئے ہیں جن کی جانچ اور تصدیق کا عمل جاری ہے، تاکہ متاثرہ افراد کی شناخت جلد از جلد ممکن بنائی جا سکے۔

23لاشیں نکال لی گئیں، 75 افراد لاپتہ ہیں، ڈپٹی کشمنر

ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید کھوسو نے بتایا ہے کہ اب تک مجموعی طور پر 23 لاشیں نکالی جا چکی ہیں جن میں سے 18 کی شناخت ہو گئی ہے، جبکہ ریسکیو اینڈ سرچ آپریشن تاحال جاری ہے۔

ڈپٹی کمشنر کے مطابق عمارت کا تقریباً 40 فیصد حصہ گر چکا ہے اور ایس بی سی اے کے ماہرین نے معائنے کے بعد آگاہ کیا ہے کہ عمارت کے دیگر حصے بھی انتہائی کمزور ہیں۔

انہوں نے تاجروں سے اپیل کی کہ وہ انتظامیہ سے تعاون کریں اور ریڈ زون سے دور رہیں۔

مزید پڑھیں: سانحہ گل پلازہ، تحقیقاتی کمیٹی کا پہلا اجلاس آج طلب

جاوید کھوسو نے کہا کہ آج عمارت کے اندر داخل ہو کر سرچنگ کا عمل مزید آگے بڑھایا جائے گا۔ لاپتہ افراد کی ابتدائی فہرست میں 83 نام شامل تھے، تاہم جانچ کے بعد 75 افراد کے لاپتہ ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

حکام کے مطابق 39 افراد کی آخری لوکیشن گل پلازہ رپورٹ ہوئی ہے۔

7 لاشیں قابلِ شناخت، 48 افراد کی ڈی این اے پروفائلنگ مکمل، پولیس سرجن

سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے، جہاں بیشتر لاشیں ناقابلِ شناخت حالت میں ہیں اور ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے شناخت کی جا رہی ہے۔

پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمعیہ سید نے میڈیا کو بتایا کہ اب تک سول اسپتال کراچی میں 20 لاشیں لائی جا چکی ہیں، جن میں سے صرف 7 لاشیں قابلِ شناخت ہیں جبکہ باقی 14 افراد کے جسمانی اعضا موصول ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 14 لاشوں کے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں، جن میں سے 6 کی شناخت مکمل ہو چکی ہے، جبکہ ایک لاش کی شناخت قومی شناختی کارڈ کے ذریعے ممکن ہوئی۔

ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق متوفین کی شناخت کے لیے 48 اہلِ خانہ کے ڈی این اے نمونے موصول ہو چکے ہیں اور اب تک 48 افراد کی ڈی این اے پروفائلنگ مکمل کی جا چکی ہے۔ تمام سیمپلز سندھ فرانزک ڈی این اے لیبارٹری ارسال کر دیے گئے ہیں جبکہ ڈی این اے ٹیسٹ ICCBS جامعہ کراچی میں کیے جائیں گے۔

پولیس سرجن نے مزید بتایا کہ مزید انسانی باقیات کی شناخت اور پراسیسنگ کا عمل آج بھی جاری رہے گا تاکہ جاں بحق افراد کی شناخت جلد از جلد مکمل کی جا سکے۔

منہدم حصے میں سرچ اور ریسکیو آپریشن بدستور جاری

رات گئے بلدیہ عظمیٰ کراچی کی ٹیموں نے ریسکیو آپریشن میں تیزی کرتے ہوئے گل پلازہ کی بیسمنٹ میں بھی داخل ہو کر کلیئرنس کا عمل شروع کر دیا۔

میئر کراچی خود موقع پر موجود رہے اور ریسکیو آپریشن کی نگرانی کی۔ انہوں نے ہدایت دی کہ ہر صورت ریسکیو آپریشن مکمل کیا جائے اور لاپتہ افراد کی تلاش مزید تیز کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک تمام لاپتہ افراد کا سراغ نہیں مل جاتا، بلدیہ عظمیٰ کراچی کے تمام محکمے الرٹ رہیں گے۔

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کے مطابق گل پلازہ کی عمارت میں قائم مسجد میں سرچنگ ٹیم داخل ہوئی، جہاں کوئی فرد موجود نہیں تھا۔

انھوں نے بتایا کہ مسجد کے اندر موجود الماریاں محفوظ حالت میں پائی گئیں جبکہ وہاں سے 50 سے زائد قرآنِ پاک سلامت حالت میں ملے۔ مسجد کی اندرونی ویڈیو میں بھی واضح ہے کہ عبادت گاہ خالی تھی۔

میئر کراچی نے بتایا کہ ضلع انتظامیہ، ریسکیو اداروں اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کی مشترکہ کارروائی سے آگ پر مکمل قابو پا لیا گیا ہے۔

سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز کو مشینری اور وسائل بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے جبکہ متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی، ریسکیو ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور بیسمنٹ کی کلیئرنس میں مصروف ہیں۔

حکام کے مطابق گل پلازہ کی چھت پر قائم پارکنگ سے اب تک مجموعی طور پر 32 گاڑیاں، 12 موٹرسائیکلیں، 4 سوزوکی اور ایک رکشہ نکال لیا گیا ہے۔

رات گئے چھت سے دو گاڑیاں اتار کر محفوظ حالت میں مالکان کے حوالے کی گئیں، جنہیں مالکان نے خود چلا کر محفوظ مقام پر منتقل کیا۔

تاجر عامر کے مطابق گل پلازہ میں تین شوروم تھے جو مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئے، تاہم حیران کن طور پر ان کی دو گاڑیاں محفوظ مل گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی دکان پر کام کرنے والے دو افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

متعلقہ خبریں