وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے اور ملک اس وقت عملی طور پر حالتِ جنگ میں ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ بھارت نے دہشت گردوں کا بجٹ بڑھایا ہے اور پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ابھی ہم جنازے اٹھا رہے ہیں، جب انڈیا اٹھائے گا تو اس کو شدید تکلیف ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں حالات کشیدہ ہیں اور دشمن بزدلانہ حملے کر رہا ہے، تاہم سیکیورٹی فورسز پوری قوت سے مقابلہ کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق بلوچستان میں آنے والے دہشت گرد بچ کر نہیں جا سکے۔
مزید پڑھیں: محسن نقوی کا ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز کا دورہ، ادارے کی جدید کاری اور مضبوط قیادت پر زور
وزیر داخلہ نے کہا کہ بی ایل اے کی ویڈیوز بھارتی میڈیا پر دکھائی جاتی ہیں اور دنیا کو یہ باور کرانا ہوگا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور وہاں تقریباً 21 دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ دھماکے کے بعد پشاور اور نوشہرہ میں فوری کارروائیاں کی گئیں، ایک اہلکار شہید ہوا جبکہ متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔
ان کے مطابق داعش سے تعلق رکھنے والا ایک اہم رہنما اداروں کی تحویل میں ہے اور دھماکے کے پیچھے داعش افغانستان کا ہاتھ ہونے کے شواہد ملے ہیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ کل کا دن پورے پاکستان کے لیے افسوسناک تھا اور شہدا کے اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اپنے علاقوں میں کسی مشتبہ شخص کی موجودگی کی صورت میں فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں، کیونکہ کمیونٹی انٹیلیجنس دہشت گردی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔




















