اگر جانوروں کی دنیا کو دیکھا جائے تو محبت کے انداز نہایت حیران کن اور انوکھے ہیں۔ انسان خود کو جتنا بھی پیچیدہ سمجھے، فطرت میں ایسے ایسے طریقے موجود ہیں جو کسی بھی تہوار یا رومانوی رسم کو مات دے دیں۔
مچھلی کا محبت نامہ
جاپان کے سمندر میں ایک خاص قسم کی نر مچھلی اپنی مادہ کو متاثر کرنے کے لیے ریت پر خوبصورت گول نقش بناتی ہے۔ وہ ریت میں گہرے اور ابھار دار ڈیزائن تیار کرتا ہے اور انہیں خول کے ٹکڑوں سے سجاتا ہے۔
یہ عمل تقریباً ایک ہفتہ جاری رہتا ہے۔ یہ دائرہ نہ صرف مادہ کو لبھاتا ہے بلکہ انڈے دینے کے لیے محفوظ جگہ بھی فراہم کرتا ہے۔ ملاپ کے بعد یہ شاہکار چھوڑ دیا جاتا ہے اور نر اگلی بار پھر نیا نقش بناتا ہے۔
سمندر کی گہرائیوں کی عجیب وابستگی
گہرے سمندر کی ایک مچھلی میں نر بہت چھوٹا اور کمزور ہوتا ہے۔ جب وہ کسی بڑی اور چمکدار مادہ کو ڈھونڈ لیتا ہے تو اس سے چمٹ جاتا ہے۔
بعض اوقات وہ مستقل طور پر اس کے جسم کا حصہ بن جاتا ہے۔ مادہ اسے خوراک دیتی ہے اور بدلے میں اپنی نسل بڑھانے کے لیے اس سے فائدہ اٹھاتی ہے۔
کٹ جانے والا بازو بھی کام کا
ایک سمندری جاندار میں نر، مادہ کے مقابلے میں نہایت چھوٹا ہوتا ہے۔ وہ اپنا ایک مخصوص بازو الگ کرکے مادہ تک پہنچاتا ہے تاکہ افزائش کا عمل مکمل ہوسکے۔ حیرت انگیز طور پر یہ بازو علیحدہ ہونے کے بعد بھی کچھ وقت تک متحرک رہتا ہے۔
مکڑیوں کے تحفے اور فریب
کچھ مکڑیاں مادہ کو ریشم میں لپٹا ہوا شکار بطور تحفہ پیش کرتی ہیں تاکہ وہ انہیں نقصان نہ پہنچائے۔ مگر بعض نر مکڑیاں خالی خول یا بے کار چیز لپیٹ کر دھوکا دیتی ہیں۔ اگرچہ یہ چال کبھی کبھار کامیاب ہوجاتی ہے مگر مادہ جلد ہی حقیقت جان لیتی ہے۔
پرندوں کا انوکھا ناچ
کچھ نر پرندے مادہ کو متاثر کرنے کے لیے عجیب و غریب ناچ اور رنگ برنگی نمائش کرتے ہیں۔ نسل در نسل یہی انداز اپنایا گیا ہے تاکہ مادہ کی پسند پر پورا اترا جاسکے۔
کیچوؤں کی تلوار بازی
ایک چپٹے کیڑے میں دونوں ساتھی نر اور مادہ کی خصوصیات رکھتے ہیں۔ فیصلہ اس طرح ہوتا ہے کہ وہ سوئی نما عضو سے ایک دوسرے پر حملہ کرتے ہیں۔ جو پہلے زخمی ہو، وہ انڈے دینے کی ذمہ داری اٹھاتا ہے۔
یہ تمام طریقے اس بات کا ثبوت ہیں کہ فطرت میں بقا اور نسل بڑھانے کے لیے حیرت انگیز حکمت عملی اختیار کی جاتی ہے۔ محبت کے یہ انداز عجیب ضرور ہیں مگر ارتقا نے انہیں کامیاب بنایا ہے۔




















