Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

قدیم دور کے جانور دو نہیں چار آنکھوں سے دیکھتے تھے، تحقیق میں اہم انکشاف

میلانن والے فوسلز صرف 300 ملین سال پرانے ملے تھے، مگر یہ فوسلز 518 ملین سال پرانے ہیں

  ریڑھ کی ہڈی رکھنے والے قدیم دور کے جانور دو نہیں بلکہ چار آنکھوں سے دیکھتے تھے۔ ان اضافی آنکھوں کے آثار آج بھی انسان کے دماغ میں پائنئل غدود کی شکل میں موجود ہیں، جو نیند کی تال کو منظم تو کرتے ہیں مگر اب یہ دیکھنے کے لیے استعمال نہیں ہوتے۔

یاد رہے کہ سائنس کا ماننا ہے کہ موجودہ دور کا انسان ماضی میں جانورتھا اوریہ ارتقائی منازل طے کرتے ہوئے اس مقام تک پہنچا ہے۔

چین کے کُنمنگ علاقے میں کیمبرین دور کے دو قدیم ریڑھ کی ہڈی رکھنے والے جانوروں کی نوع کی باقیات پر تحقیق کی گئی جو تقریباً 518 ملین سال پرانی ہیں۔

تحقیق کے دوران انکشاف ہوا کہ ان جانوروں کے سر کے دونوں طرف دو بڑی سوراخ (جو آنکھوں کے طور پر سمجھی جاتی ہیں) اور ان کے درمیان اوپر کی طرف دو چھوٹی جگہیں بھی تھیں۔

محققین پہلے اسے ناک کا نتھنا سمجھے تاہم الیکٹران مائکرواسکوپ کے ذریعے پتا چلا کہ ان جگہوں میں میلانی (جو آنکھوں کے رنگ کا تعین کرتا ہے) پایا گیا تھا۔

اس سے پہلے، میلانی والے فوسلز صرف 300 ملین سال پرانے ملے تھے، مگر یہ فوسلز 518 ملین سال پرانے ہیں، جو کہ بہت حیرت کی بات ہے۔

محققین نے ان اعضاء میں لینس کی ایک تصویر بھی دیکھی، جس سے یہ ثابت ہوا کہ یہ آنکھیں تھیں۔ یعنی ان جانوروں کے پاس دونوں طرف دو بڑی آنکھیں اور اوپر دو چھوٹی آنکھیں تھیں، اور دونوں کیمرے کی طرح کام کرتی تھی۔

تحقیق کے مطابق، یہ جانور ابتدا میں خوراک کے لیے سمندر کے نیچے رہتے تھے اور چار آنکھیں ان کے لیے فائدے مند تھیں تاکہ وہ زیادہ وسیع زاویے سے اپنے ارد گرد دیکھ کر شکاریوں سے بچ سکیں۔

وقت کے ساتھ، ان جانوروں کا ارتقاء ہوا اور وہ فلٹر فیڈرز سے گوشت خور بن گئے، اور ان کی آنکھوں کی دوسری جوڑی پائنئل غدود میں تبدیل ہوگئیں، جو نیند کی تال کو کنٹرول کرتی ہے۔