حال ہی میں تائیوان میں ایک انوکھا پیش آیا ایک تائیوانی خاتون نے تقریباً دو سال تک رات کے وقت میگا فون کے ذریعے پڑوسیوں کی تضحیک کرنے کا عمل جاری رکھا جس پر انہیں پر تین ماہ قید کی سزا سنادی گئی۔
تصور کریں کہ آپ سکون سے سو رہے ہوں اور اچانک آدھی رات کو اونچی آواز میں گالیاں سن کر آپ کی آنکھ کھل جائے یہی تکلیف تائیوان کے شہر کاہسیونگ کے درجنوں رہائشیوں کو برداشت کرنا پڑی، جنہیں ایک عجیب و غریب رویے والی پڑوسن کا سامنا تھا۔
حال ہی میں تائیوان کی ایک عدالت نے چن نامی خاتون کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے بتایا کہ خاتون نے اپنے گھر کی بالکونی میں لاؤڈ اسپیکر لگا رکھا تھا اور وہ رات کے مختلف اوقات میں کم از کم ہفتے میں تین بار اپنے پڑوسیوں کو گالیاں دیتی تھی جبکہ یہ سلسلہ تقریباً دو سال تک جاری رہا۔
یہ بھی پڑھیں: تائیوان میں طلباء کو گریجویشن سرٹیفکیٹ کیلئے منفرد چیلنج درکار
مئی 2023 میں چن نے میگا فون استعمال کرنا شروع کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کے کچھ پڑوسیوں سے جھگڑا تھا، اس لیے وہ انہیں برا بھلا کہتی تھی۔ لیکن اس کی آواز اتنی زیادہ بلند ہوتی تھی کہ آس پاس کے کئی گھروں کا سکون برباد ہونے لگا۔
وہ ہر بار اسے تیز میں نشر کرتی اور یہ عمل کئی منٹ تک جاری رہتا تھا۔ تقریباً دو سال تک یہ سب برداشت کرنے اور اسے سمجھانے کی کوشش میں ناکام رہنے کے بعد، درجنوں پڑوسیوں نے مل کر پولیس میں شکایت درج کرائی۔
معاملہ عدالت تک پہنچا، جہاں چن نے اعتراف کیا کہ وہ رات گئے میگا فون پر پڑوسی کو گالیاں دیتی تھی، لیکن اس نے کہا کہ وہ ایسا کبھی کبھار ہی کرتی تھی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ پڑوسیوں کے شور کی وجہ سے وہ خود آرام نہیں کر پاتی تھی۔
جج نے فیصلہ دیا کہ رات کے وقت جان بوجھ کر اور بار بار آواز بڑھانے والے آلات کے ذریعے گالم گلوچ کرنا معاشرے میں قابلِ قبول نہیں ہے۔ عدالت نے اسے تین ماہ قید کی سزا سنائی، جسے 90,000 تائیوانی ڈالر (تقریباً 3600 امریکی ڈالر) جرمانہ ادا کرکے بدلا جا سکتا ہے تاہم وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل بھی کر سکتی ہے۔
اس طرح کی شور شرابے سے تنگ کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی ایسے واقعات سامنے آ چکے ہیں جن میں ایک شخص نے سارا دن تیز موسیقی اور کتوں کے بھونکنے کی آوازیں چلا کر پڑوسیوں کو پریشان کیا، جبکہ ایک خاتون نے 16 سال تک اونچی آواز میں اوپیرا موسیقی چلا کر لوگوں کا سکون برباد کیا۔




















