Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

انٹارکٹیکا کے سرد سمندر میں شارک کی غیر متوقع موجودگی، سائنسدان حیران

طویل عرصے تک یہ خیال کیا جاتا رہا کہ اس انتہائی سرد سمندر میں شارک نہیں پائی جاتی۔

آسٹریلیا کے شہر میلبرن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق برفانی خطے انٹارکٹیکا کے گہرے اور یخ بستہ سمندر میں ایک بڑی شارک کی موجودگی نے ماہرین کو حیران کردیا ہے۔

طویل عرصے تک یہ خیال کیا جاتا رہا کہ اس انتہائی سرد سمندر میں شارک پائی نہیں جاتی لیکن حالیہ ویڈیو ریکارڈنگ نے اس تاثر کو چیلنج کردیا ہے۔

یہ شارک جنوری 2025 میں تقریباً 490 میٹر گہرائی میں ریکارڈ کی گئی، جہاں پانی کا درجہ حرارت نقطۂ انجماد کے قریب یعنی لگ بھگ 1.27 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔ اندازے کے مطابق اس کی لمبائی تین سے چار میٹر کے درمیان تھی۔

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایلن جیمیسن کے مطابق وہ اس گہرائی میں شارک دیکھنے کی توقع نہیں کررہے تھے کیونکہ عمومی سائنسی رائے یہی تھی کہ انٹارکٹیکا کے پانی شارک کے لیے موزوں نہیں۔

ویڈیو میں سمندر کی تہہ پر ایک چپٹی مچھلی بھی دکھائی دی جو سکون سے موجود تھی اور گزرنے والی شارک سے بے پرواہ نظر آئی۔

اس قسم کی مچھلیوں کی موجودگی پہلے سے معلوم تھی لیکن اتنی جنوب میں شارک کا ریکارڈ ہونا غیر معمولی پیش رفت ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سے قبل انٹارکٹک سمندر میں اتنی جنوب کی جانب کسی شارک کی باضابطہ نشاندہی نہیں ہوئی تھی۔

کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ سمندری درجہ حرارت میں تبدیلی اور موسمیاتی تغیرات ممکنہ طور پر شارک کو سرد علاقوں کی طرف لے جارہے ہوں تاہم اس حوالے سے شواہد محدود ہیں کیونکہ یہ خطہ انتہائی دور افتادہ ہے اور یہاں تحقیقاتی سرگرمیاں کم ہوتی ہیں۔

ایک اور امکان یہ بھی ہے کہ یہ سست رفتار شارک پہلے سے وہاں موجود ہوں لیکن انہیں کبھی دیکھا نہ گیا ہو۔

تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے کہ انٹارکٹک سمندر کی تہیں مختلف درجہ حرارت کی پرتوں پر مشتمل ہیں اور یہ شارک تقریباً پانچ سو میٹر کی گہرائی پر اس لیے موجود تھی کیونکہ وہ پرت نسبتاً زیادہ گرم تھی۔

امکان ہے کہ ایسی شارک مردہ وہیل، دیوہیکل اسکوئڈ اور دیگر سمندری جانوروں کی لاشوں پر گزارا کرتی ہوں جو سمندر کی تہہ تک پہنچ جاتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق سال کے بیشتر حصے میں اس خطے میں کیمرے فعال نہیں ہوتے، اسی لیے ایسے حیران کن مناظر کبھی کبھار ہی سامنے آتے ہیں۔