سائنس کی ترقی کی بدولت جہاں زندگی سہل ہوگئی ہے وہی اس کے ساتھ ہی کچھ نئے مسائل بھی جنم لگے ہیں، اس ڈیجیٹل دور کا سب سے بڑا مسئلہ آن لائن فراڈ ہیکنگ ہے جو تیزی سے بڑھ رہی ہے اس کی ایک بڑی وجہ کمزورپاس ورڈ ہے۔
لوگوں کی بڑی تعداد اپنی سہولت کے لیے ہر جگہ آسان یا ایک ہی پاس ورڈ استعمال کرتے ہیں تاکہ انہیں یادرہے تاہم اس چھوٹی سی غلطی سے ڈیٹا چوری ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ لمبا اور منفرد پاس ورڈ سائبر مجرموں سے تحفظ کا سب سے موثر طریقہ ہے۔
آئیے ماہرین کی جانب سے دی گئی رائے کے مطابق آپ کو بتاتے ہیں کہ ایک مضبوط پاس ورڈ کیسا ہونا چاہیے، جس کے بعد دھوکہ باز بے بس ہو کر رہ جائیں گے۔
14 سے 20 حروف کے پاس ورڈ استعمال کریں
ڈجیٹل سیکوریٹی فراہم کرنے والی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ جب بھی ہم پاس ورڈ بناتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ یہ منفرد ہے لیکن اربوں صارفین میں سے کوئی پہلے ہی اس پاس ورڈ کو استعمال کر چکا ہے۔ پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ 8 حروف کا پاس ورڈ محفوظ ہے لیکن اب ہیکرس اسے آسانی سے کریک کر سکتے ہیں۔ آج پاس ورڈ کریکنگ پروگرام اتنے تیز ہو گئے ہیں کہ کچھ سافٹ ویئر فی سیکنڈ 350 بلین پاس ورڈس کو کریک کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایک کمزور پاس ورڈ نے 158 سال پرانی کمپنی کو تباہ کردیا: سائبر حملے سے 700 ملازمین بے روزگار
یہی وجہ ہے کہ اب صارفین کو سیکوریٹی کے لیے کم از کم 14 سے 20 حروف کا پاس ورڈ رکھنا چاہیے۔ پاس ورڈ جتنا لمبا ہوگا، اسے کریک کرنا اتنا ہی مشکل اور وقت طلب ہوگا۔
ایک مثال سے سمجھیں کہ پاس ورڈ کس قسم کا ہونا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق کوئی بھی مضبوط پاس ورڈ بڑے حروف، چھوٹے حروف اور خصوصی حروف سے مل کر بنتا ہے۔
مثال کے طور پر اگر آپ عام طور پر `Lucky777` جیسا پاس ورڈ درج کرتے ہیں تو اسے `L@cky!931` میں تبدیل کریں تاکہ یہ آسانی سے ہیک نہ کیا جاسکے۔
اگر آپ چاہیں تو گانے، نظم یا محاورے سے بھی پاس ورڈ بنا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ `جینے کے ہیں چار دن، باقی ہیں بیکار دن کی لائن سے `JkhcdBhbd` جیسا پاس ورڈ بھی بنا سکتے ہیں۔اس کے علاوہ اگر آپ چاہیں تو آپ Security.org جیسے بے ترتیب پاس ورڈ جنریٹر کا استعمال کرکے اور بھی زیادہ محفوظ پاس ورڈ بنا سکتے ہیں۔
متعدد اکاؤنٹس کے لیے ایک ہی پاس ورڈ نہ رکھیں
کچھ لوگ ایک سے زیادہ اکاؤنٹس کے لیے ایک ہی پاس ورڈ رکھتے ہیں تاکہ وہ پاس ورڈ بھول نہ جائیں۔ لیکن سائبر سیکوریٹی کے ماہر کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا بہت خطرناک ہوسکتا ہے کیونکہ اگر ایک اکاؤنٹ ہیک ہو جائے تو سمجھ لیں کہ آپ کے تمام اکاؤنٹس بہت آسانی سے ہیک ہو جائیں گے۔ اس سے آپ کی تمام ذاتی معلومات، بینک کی تفصیلات، تمام ڈیٹا چوری کیا جا سکتا ہے۔















