ایران کے ساتھ حالیہ جنگی کشیدگی نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو ایک نئے دفاعی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ امریکی دفاعی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والے میزائل دفاعی نظاموں کے باعث امریکا کے اسلحہ ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں جنہیں دوبارہ بھرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
امریکی تھنک ٹینک سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کی تازہ رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف کارروائیوں میں پیٹریاٹ اور تھاڈ جیسے جدید میزائل دفاعی نظاموں کے سیکڑوں انٹرسیپٹرز استعمال کیے گئے جس کے بعد امریکی ذخائر پر شدید دباؤ پیدا ہو گیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ موجودہ رفتار برقرار رہی تو ان ذخائر کی مکمل بحالی 2029 سے پہلے ممکن نہیں ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے 2026 کے دوران صرف 172 پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز حاصل کیے جبکہ ایران سے کشیدگی کے دوران ایک ہزار سے زائد استعمال ہو چکے ہیں۔
اس صورتحال نے امریکا کے اتحادی ممالک خصوصاً یوکرین اور تائیوان کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے جو اپنی دفاعی ضروریات کے لیے بڑی حد تک امریکی اسلحے پر انحصار کرتے ہیں۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے حالیہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خط لکھ کر روسی میزائل حملوں سے بچاؤ کے لیے فوری طور پر مزید انٹرسیپٹرز فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ یوکرینی حکام کے مطابق روس نے کیف پر حالیہ حملوں میں کروز، بیلسٹک اور ہائپرسونک میزائل استعمال کیے۔
ادھر تائیوان بھی ممکنہ چینی خطرات کے پیش نظر شدید دباؤ میں ہے۔ تائیوانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی اسلحے کی ترسیل میں تاخیر ان کے لیے بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہے جبکہ پیٹریاٹ میزائل ان کی اولین ضرورت ہیں۔
دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے بڑے دفاعی معاہدے شروع کر دیے ہیں۔ امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کے ساتھ تھاڈ اور پیٹریاٹ میزائلوں کی پیداوار کئی گنا بڑھانے کا معاہدہ کیا گیا ہے جبکہ بوئنگ اور آر ٹی ایکس کو بھی پیداوار تیز کرنے کی ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق جدید میزائل شکن نظام نہایت مہنگے ہیں اور بعض انٹرسیپٹرز کی قیمت لاکھوں ڈالر تک پہنچتی ہے، اسی لیے امریکا اب نسبتاً کم لاگت والے متبادل دفاعی نظاموں پر بھی غور کر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران جنگ نے واضح کر دیا ہے کہ جدید جنگوں میں صرف طاقتور ہتھیار ہونا کافی نہیں بلکہ ان کی مسلسل دستیابی بھی سب سے بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔
















