Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں اہم پیشرفت

پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان 1979 کے بعد اعلیٰ ترین سطح کے مذاکرات کی میزبانی کی، ووکس

 امریکی جریدے ووکس نے اپنے ایک تجزیے میں کہا ہے کہ پاکستان 2026 میں امریکہ اور ایران کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے دوران ایک اہم اور غیر متوقع سفارتی شراکت دار کے طور پر سامنے آیا ہے، جس نے دونوں ممالک کے درمیان رابطوں، جنگ بندی اور مذاکراتی عمل میں کلیدی کردار ادا کیا۔

تجزیے کے مطابق پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں کو بحال رکھنے اور مذاکراتی پیش رفت میں معاونت فراہم کی، جس کے نتیجے میں اسلام آباد خطے میں ایک مؤثر ثالث کے طور پر ابھرا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف نے ان سفارتی کوششوں کی قیادت کی۔

ووکس کے مطابق پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان 1979 کے بعد اعلیٰ ترین سطح کے مذاکرات کی میزبانی بھی کی، جبکہ واشنگٹن اور تہران دونوں نے پاکستان کو ایک قابل اعتماد رابطہ کار اور ثالث کے طور پر تسلیم کیا۔

تجزیے میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا، جو ان کی پہلی مدتِ صدارت کے دوران اختیار کی گئی پالیسی کے برعکس ایک نمایاں تبدیلی تصور کی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے اسلام آباد کے حوالے سے اپنی پالیسی میں تاریخی نوعیت کی تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں۔

رپورٹ میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان دہشت گردی کے خلاف تعاون میں پیش رفت کا بھی ذکر کیا گیا ہے اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان کرپٹو کرنسی اور نایاب معدنیات کے شعبوں میں اہم معاہدوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جو اقتصادی اور تزویراتی تعلقات کے فروغ کی علامت سمجھے جا رہے ہیں۔

ووکس کے مطابق عالمی اور علاقائی ترجیحات میں تبدیلی کے باعث پاکستان کی جغرافیائی اور سفارتی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان بیک وقت امریکہ، چین، سعودی عرب اور ایران کے ساتھ مؤثر روابط برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے، جس نے اسے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی سفارت کاری میں ایک اہم کردار عطا کیا ہے۔

تجزیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے بین الاقوامی تنازعات کے حل میں اپنی ساکھ اور اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کیا ہے اور اب وہ علاقائی و عالمی سطح پر ایک ناگزیر سفارتی شراکت دار کے طور پر اپنی اہمیت منوا رہا ہے۔

تاہم ووکس نے خبردار کیا ہے کہ سفارتی کامیابیوں کے باوجود پاکستان کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں امریکی حمایت پر حد سے زیادہ انحصار اور خطے میں جاری عدم استحکام سرفہرست ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے لیے مستقبل میں متوازن خارجہ پالیسی اور علاقائی استحکام کا فروغ اہم امتحان ثابت ہوگا۔