امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ ہفتے کی صبح ایران کے گوروک اور جزیرہ قشم میں واقع ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا جبکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل داغ دیے۔
امریکی سینٹرل کمان (سینٹ کام) کے مطابق امریکی طیاروں نے مبینہ طور پر ایران کی جانب سے داغے گئے چار ڈرونز کے جواب میں کارروائی کی اور تمام ڈرونز کو تباہ کر دیا۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اور خلیجی ممالک کی جانب داغے گئے متعدد بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو بھی روک لیا گیا جبکہ کسی امریکی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔
امریکی فوج کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں گوروک اور جزیرہ قشم میں ریڈار مقامات کو نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی بحری آمد و رفت کو لاحق فوری خطرات کے جواب میں کی گئی۔
اس سے قبل سینٹ کام نے دعویٰ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کی سمت داغے گئے چار خودکش ڈرونز کو بھی مار گرایا گیا۔
دوسری جانب ایرانی خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب موجود امریکی بحری جہازوں کی جانب انتباہی فائرنگ کی گئی تھی۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ چار آئل ٹینکروں پر بھی فائرنگ کی گئی جو مبینہ طور پر بغیر اجازت آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی کارروائیاں جاری رہیں تو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کیا جا سکتا ہے اور ایسی صورتحال کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔
امریکی فوج کے مطابق ایران نے مجموعی طور پر سات میزائل داغے جن میں سے چھ کو راستے میں تباہ کر دیا گیا جبکہ ساتواں اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہا۔
کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی “کونا” نے مسلح افواج کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ملک کا فضائی دفاعی نظام حملہ آور میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے لیے متحرک رہا۔
ادھر امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ بحرِ ہند میں “ڈاوینا” نامی ایک بغیر پرچم کے تیل بردار جہاز کو روک کر اس کی تلاشی لی گئی جس پر پابندیوں کی خلاف ورزی کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔
بحرین کی وزارتِ داخلہ نے بھی خطرے کے سائرن بجانے اور ملک بھر میں فضائی انتباہ جاری کرنے کی تصدیق کی ہے۔



















