وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں 13ویں بجٹ پر بحث سمیٹتے ہوئے اپنے اختتامی خطاب میں بجٹ، ترقیاتی منصوبوں، مالی خسارے، سبسڈیز، وفاقی تعلقات اور پارلیمانی کارکردگی سمیت مختلف امور پر تفصیلی گفتگو کی۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ سندھ کے 13ویں بجٹ پر بحث سمیٹ رہے ہیں اور وہ اپنے والدین، پارٹی قیادت اور سندھ کے عوام کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے رواں سال انتقال کر جانے والے سندھ اسمبلی کے اراکین کو خراج عقیدت بھی پیش کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ انہوں نے بجٹ پہلے ہی پیش کیا تھا، اگر کسی نے نہیں سنا تو یہ ان کا مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق اس سال سندھ اسمبلی میں ریکارڈ 143 اراکین نے بجٹ بحث میں حصہ لیا، جو جمہوری عمل کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن اور صحافیوں کو جتنے حقوق حاصل ہیں، وہ کہیں اور نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “شکر کریں کہ آپ کہیں اور نہیں، پنجاب جا کر کوشش کریں”۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سندھ اسمبلی واحد ایوان ہے جہاں ہر صوبے سے تعلق رکھنے والے افراد موجود ہیں۔ انہوں نے اپنی خاندانی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے آباؤ اجداد 200 سال قبل سندھ آئے اور اس دھرتی نے انہیں عزت دی۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کو قبول کرنے کی سب سے درخواست ہے، اور یہاں صدیوں سے لوگ آ رہے ہیں کیونکہ یہ ان کے لیے بھی وطن ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد آنے والوں کو سندھ نے خوش آمدید کہا۔
بجٹ بحث سے متعلق کارکردگی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس بار سندھ اسمبلی میں 88 فیصد اراکین نے بات کی، جبکہ بلوچستان میں 39 فیصد، خیبرپختونخوا میں 44 فیصد، پنجاب میں 56 فیصد اور قومی اسمبلی میں 65 سے کم اراکین نے حصہ لیا۔ ان کے مطابق سندھ میں سب سے زیادہ اراکین کو بولنے کا موقع دینا سندھ کی روایتی مہمان نوازی اور جمہوری مزاج کا مظہر ہے۔
مالی معاملات پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ بجٹ کا مجموعی خسارہ 344 ارب روپے ہے جبکہ وفاق سے 176 ارب روپے کی ادائیگیاں ابھی وصول ہونا باقی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اضافی اخراجات کے باوجود ترقیاتی کام جاری رکھے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس کے لیے 6 ارب روپے سے زائد اضافی بجٹ دیا گیا، سیلاب کے لیے 1 ارب روپے سے زائد، جبکہ گندم سبسڈی پر 43 ارب روپے سے زیادہ خرچ کیے گئے جس کے نتیجے میں سندھ پہلی بار گندم میں خود کفیل ہوا۔
انہوں نے کہا کہ موٹرسائیکل سواروں کے لیے دی جانے والی سبسڈی کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔ ان کا چیلنج تھا کہ کسی بھی غیر مستحق شخص کو ایک روپیہ بھی نہیں دیا گیا۔ ای پی آئی ویکسین کی خریداری کے لیے 5.51 ارب روپے، ماہی گیروں کے لیے بھی سبسڈی اور حیدرآباد-سکھر موٹروے کے لیے برج فنانسنگ فراہم کی گئی۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ کی رپورٹ جلد پبلک کی جائے گی اور اس واقعے کے لیے 8 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ غیر بجٹ اخراجات 95.5 ارب روپے رہے، جبکہ اس کے باوجود تقریباً 100 ترقیاتی منصوبے مکمل کیے گئے۔
انہوں نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کو سراہتے ہوئے کہا کہ شاہراہ بھٹو اسی ماڈل کے تحت بنائی گئی جس کی دنیا تعریف کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم سے درخواست کی گئی ہے کہ سندھ پی پی پی یونٹ کو بریفنگ کے لیے بلایا جائے۔
پارلیمانی امور پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئندہ پری بجٹ سیشن ہونا چاہیے اور سوال اٹھایا کہ کس صوبے میں اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر بجٹ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے آئین کے تحت این ایف سی میں صوبوں کے حصے میں کمی نہ کرنے پر زور دیا اور کہا کہ وفاقی دفاعی ضروریات اپنی جگہ، مگر ہر مسئلے کا آئینی حل نکالا جانا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ وفاق نے این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی کی بات کی، لیکن سندھ واحد صوبہ تھا جس نے اس مسئلے کے حل کے لیے باقاعدہ آئینی راستہ تجویز کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کے لیے ترقیاتی پروگرام 720 ارب روپے رکھا گیا ہے جبکہ کراچی کے لیے 206 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے جاری اخراجات میں صرف 7.4 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ پنجاب نے 9.7 فیصد اضافہ کیا ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا نے جاری اخراجات میں 17.3 فیصد اور بلوچستان نے 17 فیصد اضافہ کیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ ترقیاتی اخراجات 287 ارب روپے برقرار رکھے گئے ہیں اور اس میں ایک روپیہ بھی اضافہ نہیں کیا گیا، جبکہ پنجاب نے ترقیاتی بجٹ میں 12.1 فیصد، خیبرپختونخوا نے 10 فیصد اور بلوچستان نے 4 فیصد اضافہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم کے بجٹ میں 5 فیصد سے زائد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ صحت کے شعبے میں بھی اضافی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ حکومتی اخراجات میں 62 ارب روپے سے زائد کی کٹوتی کی گئی ہے، جس میں وزیراعلیٰ ہاؤس اور گورنر ہاؤس سمیت مختلف محکموں کے اخراجات شامل ہیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ غیر ملکی امداد سے چلنے والے منصوبوں کے لیے 45 ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ وفاق نے 64 ارب روپے دینے کا وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے اپنا حصہ 50 ارب روپے سے زائد رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ سال 1800 سے زائد ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ فنڈز کی کمی کو پورا کرنے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کو فروغ دیا جا رہا ہے، جسے اقوام متحدہ اور قومی اقتصادی کونسل نے بھی سراہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ کیٹی بندر منصوبے پر وزیراعظم سے بات چیت ہوئی ہے، جبکہ صدر آصف علی زرداری کے چین کے دورے میں اس منصوبے پر پیش رفت ہوئی۔ ان کے مطابق کیٹی بندر صرف بندرگاہ نہیں بلکہ ایک مکمل اقتصادی نیٹ ورک کا مرکز ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر کے قیام کا منصوبہ بھی زیر غور ہے، جس کے لیے مختلف مقامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس میں اسلامی فنانس، فن ٹیک اور تنازعات کے حل کی عالمی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت کی سوچ صرف روایتی شعبوں تک محدود نہیں بلکہ جدید معیشت کی طرف پیش رفت کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی پورٹ اور اسٹیل مل جیسے بڑے منصوبے ماضی کی قیادت کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ گرین انرجی نیٹ ورک پر کام شروع کر دیا گیا ہے تاکہ سستی بجلی سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یونٹ کو کمپنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ فزیبلٹی اسٹڈیز کے لیے بھی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔


















