Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

97 سالہ شخص کا بیٹے کے خلاف مقدمہ جیت کر محبوبہ سے شادی کا فیصلہ

کہتے ہیں ناں،  ایج جسٹ نمبر، عمر سے کچھ نہیں ہوتا بس دل جواں ہونا چاہیے تو ایسا ہی کچھ  معاملہ 97  سالہ شخص کے ساتھ پیش آیا۔

سنگاپور کی ایک عدالت نے 97 سالہ شخص کو ذہنی طور پر صحت مند قرار دیا، حالانکہ اس کے بیٹے نے اسے اپنی محبوبہ سے شادی کرنے سے روکنے کے لیے  ذہنی مریض قراردیا تھا۔

اس غیر معمولی کہانی کے مرکزی کردار کا نام میڈیا نے ظاہر نہیں کیا۔ اس شخص نے 1950 میں شادی کی جس سے ان کے یہاں بیٹے پیدا ہوئے، تاہم 1971 میں اس شخص نے اپنی سیکرٹری کے ساتھ تعلق استوار کیا جس سے ایک بچے نے جنم لیا، بتایا جاتا ہے کہ اس کی بیوی کو اس تعلق کے بارے میں علم تھا، لیکن وہ 2014 میں وفات تک اس کے ساتھ رہی۔

بیوی کی وفات کے محض دو سال بعد یہ شخص اپنی سیکرٹری کو اپنے ساتھ گھر لے آیا، مگر معاملہ اس وقت سنگین نوعیت اختیار کرگیا جب 2021 میں شادی کا فیصلہ کیا اور یہی فیصلہ تنازع کو صورت اختیار کر گیا۔

دوسرے بیٹے کو جب بوڑھے والد کی شادی کا پتا چلا تو اس نے خاندانی عدالت میں درخواست دائر کی اور مطالبہ کیا کہ اس کے والد کو قانونی طور پر نااہل قرار دیا جائے۔

 بیٹے نے الزام عائد کیا کہ 2017 میں گرنے کے بعد والد کو ڈیمنشیا (یادداشت کی بیماری) ہو گئی ہے، وہ فیصلے کرنے کے قابل نہیں رہے اور ان کی دوست انہیں اپنے فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

یہ بزرگ شخص، جو 1960 کی دہائی میں قائم کی گئی ایک کیمیکل کمپنی کا مالک ہے، نے اپنی وصیت میں ترمیم کر کے اپنے دوسرے بیٹے اور پوتے کو جائیداد سے محروم کر دیا۔ اس کے علاوہ اس نے جوابی مقدمہ دائر کرتے ہوئے 38 لاکھ سنگاپور ڈالر (تقریباً 29 لاکھ امریکی ڈالر) اور کمپنی کے اثاثے واپس مانگ لیے۔ اس نے مقدمے کے ردِعمل میں اپنے پوتے کو گھر سے نکلوانے کی بھی کوشش کی۔

یہ بھی پڑھیں: چیٹ جی پی ٹی سے تیار ویڈنگ اسپیچ میں اہم غلطی، عدالت نے شادی منسوخ کردی

طبی شواہد سے ثابت ہوا کہ عمر کے باعث اس شخص کی ذہنی صلاحیتوں میں معمولی کمی اور قلیل مدتی یادداشت کی کمزوری ضرورموجود ہے، مگر وہ شادی اور جائیداد سے متعلق فیصلے کرنے کے پوری صلاحیت رکھتا ہے۔

جج شوبھا نائر نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ بیٹے نے والد کی دماغی بیماری کا دعویٰ کرنے کے باوجود 2019 میں اپنے والد کو کمپنی کا سی ای او مقرر کرنے کی منظوری دی، جو اس مبینہ حادثے کے دو سال بعد تھا۔

عدالت نے دوسرے بیٹے کی درخواست مسترد کر دی اور کہا کہ 97 سالہ شخص گزشتہ 50 برسوں سے اسی عورت کے ساتھ تعلق میں ہے اور اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ اس عورت نے دھوکہ دہی یا استحصال کے ذریعے اس کی جائیداد ہتھیانے کی کوشش کی ہو۔

تاہم، اس شخص کے دوسرے بیٹے نے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے، اس لیے 97 سالہ شخص کو اپنی محبوبہ سے شادی کے لیے ابھی کچھ عرصہ مزید انتظار کرنا پڑے گا۔