مصر کے صحرائے سینا میں ماہرین آثارِ قدیمہ نے ایک ایسا مقام دریافت کیا ہے جس کی عمر تقریباً دس ہزار سال بتائی جارہی ہے۔
وزارتِ سیاحت و نوادرات کے مطابق یہ نیا دریافت شدہ مقام ام عراق کے سطح مرتفع پر واقع ہے، جہاں تقریباً سو میٹر طویل چٹانی ساخت پر مختلف ادوار کے نقوش اور کندہ کاری موجود ہیں۔
بیان کے مطابق آثارِ قدیمہ کی اعلیٰ کونسل نے اس مقام کو تاریخی اور فنی لحاظ سے غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہاں موجود نقوش انسانی فن کے ارتقا کی عکاسی کرتے ہیں جو قبل از تاریخ دور سے لے کر اسلامی عہد تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اسی تنوع کے باعث اسے کھلے آسمان تلے ایک قدرتی عجائب گھر قرار دیا جارہا ہے۔
چٹان کی قدرتی پناہ گاہ کی چھت پر سرخ رنگ سے بنائے گئے جانوروں اور مختلف علامتوں کے خاکے نمایاں ہیں۔ اس کے علاوہ عربی اور نبطی زبان میں تحریری نقوش بھی پائے گئے ہیں۔
وزارت کے مطابق بعض کندہ کاریوں سے ابتدائی انسانی آبادیوں کی معاشی سرگرمیوں اور طرزِ زندگی کی جھلک ملتی ہے۔
ماہرین کو مقام کے اندر جانوروں کی لید، پتھریلی تقسیم بندی اور آگ جلانے کے آثار بھی ملے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ جگہ طویل عرصے تک پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔
حکام کے مطابق یہ شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ صدیوں کے دوران مختلف تہذیبیں اس خطے میں آباد رہیں۔
وزیرِ سیاحت و نوادرات نے اس دریافت کو مصری نوادرات کے نقشے میں اہم اضافہ قرار دیا ہے۔ یہ مقام جنوبی سینا میں واقع ہے، جہاں حکومت ایک بڑے ترقیاتی منصوبے پر کام کر رہی ہے تاکہ کوہِ سینا کے قریب واقع تاریخی شہر سینٹ کیتھرین کی جانب سیاحت کو فروغ دیا جا سکے۔
یہ علاقہ عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے اور یہاں بدوی قبائل آباد ہیں جو اپنے آبائی علاقوں کے تحفظ کے حوالے سے خدشات رکھتے ہیں۔




















