سائنس دان قدیم مصری ممیوں کی خوشبوؤں کا تجزیہ کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کر سکیں کہ ان ممیوں کو حنوط کرنے کے لیے کون سے اجزا استعمال کیے گئے تھے۔
عام طور پر ماہرینِ آثارِ قدیمہ ممیوں کا تجزیہ کرنے کے لیے نسبتاً زیادہ مداخلت کرنے والا طریقہ اپناتے ہیں، جس میں پٹی کا ایک ٹکڑا کاٹ کر اسے حل (dissolve) کیا جاتا ہے تاکہ حنوط کرنے والے مادّوں کی سالماتی ساخت کا پتا چل سکے۔
لیکن یہ عمل فطری طور پر نقصان دہ ہے۔ بعض اوقات اس دوران مالیکیول ٹوٹ جاتے ہیں، اور پٹیاں بھی محدود مقدار میں ہی لی جا سکتی ہیں، ورنہ پوری ممی متاثر ہو سکتی ہے اسی لیے برطانیہ کی یونیورسٹی آف برسٹل کی ایک ٹیم نے ایک نیا طریقہ اپنایا۔ انہوں نے ممی کے ارد گرد کی ہوا میں پھیلنے والے خوشبو والے مالیکیولز (جو VOCs کہلاتے ہیں) کو جمع کیا۔
VOCs وہ مالیکیولز ہیں جو ممی کے حنوطی اجزا کی خوشبو فضا میں بکھیرتے ہیں، جیسے کہ موم، تیل اور عرقیات۔
یہ مالیکیولز وقت کے ساتھ بھی ممی کے ارد گرد موجود رہتے ہیں، اور ان کا تجزیہ کر کے سائنس دان یہ جان سکتے ہیں کہ ممی کو حنوط کرنے کے لیے کیا استعمال کیا گیا تھا۔

اس طریقہ سے نہ صرف یہ معلوم ہوا کہ ممیوں کی خوشبو “لکڑی جیسی”، “مصالحہ دار” اور “میٹھی” ہوتی تھی، بلکہ یہ بھی پتہ چلا کہ وقت کے ساتھ حنوط کرنے کے اجزا میں تبدیلی آئی۔
محققین نے 19 ممیوں سے حاصل کیے گئے 35 نمونوں (جن میں عرق، پٹی اور انسانی بافتوں کے چھوٹے ٹکڑے شامل تھے) کا تجزیہ کیا۔ یہ ممی شدہ افراد تقریباً 2000 قبل مسیح سے 295 عیسوی تک کے عرصے سے تعلق رکھتے تھے، یعنی مصر میں ممی سازی کے تقریباً پورے دور کی نمائندگی کرتے تھے۔ یہ تمام نمونے یورپ اور برطانیہ کے عجائب گھروں میں محفوظ ممیوں سے لیے گئے تھے۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ ابتدائی ممیوں میں سادہ اجزا جیسے تیل اور چکنائیاں استعمال ہوتی تھیں، لیکن بعد میں مہنگے اور پیچیدہ اجزا جیسے پائن، جونیپر اور بٹومین شامل کیے گئے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ VOCs کا تجزیہ ممیوں کی عمر اور ان کے دور کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا ایک بت ضرر اور تیز طریقہ ہے۔ اس سے ممیوں کی سالمیت کو نقصان پہنچائے بغیر مفید معلومات مل سکتی ہیں۔




















