دنیا کے زیادہ تر حصوں میں سمندری سطح میں مسلسل اضافہ دیکھا جارہا ہے لیکن ایک دلچسپ انکشاف کے مطابق گرین لینڈ کی سمندری سطح آئندہ دہائیوں میں کم ہونے کا امکان ہے۔
کولمبیا یونیورسٹی کی ماہر جیوفزکس، لارین لیورائٹ اور ان کی ٹیم نے حقیقی مشاہدات اور کمپیوٹر ماڈلنگ کے ذریعے اس صدی میں گرین لینڈ کے ساحلی علاقوں میں سمندری سطح کی تبدیلی کا اندازہ لگایا ہے۔
لیورائٹ کے مطابق ’’گرین لینڈ کی ساحلی پٹی دنیا کے دیگر حصوں سے بالکل مختلف نتیجہ دیکھے گی‘‘۔
دنیا بھر میں سمندری سطح کا بڑھنا فضائی گیسوں میں اضافے کی وجہ سے ہوتا ہے جو حرارت کو زمین کی جانب پھنسائے رکھتی ہیں۔
سمندر یہ حرارت جذب کرتا ہے، پانی پھیلتا ہے اور یہ عمل حرارتی پھیلاؤ کہلاتا ہے جو عالمی سطح پر سمندری سطح کے اضافے کا سب سے بڑا سبب سمجھا جاتا ہے۔
لیکن گرین لینڈ ایک خاص معاملہ ہے کیونکہ اس کی زمین پر ایک میل موٹی برفانی تہہ موجود ہے جو جزیرے کے تقریباً 80 فیصد حصے کو ڈھانپے ہوئے ہے۔
فی الحال یہ برف ہر سال تقریباً 200 ارب ٹن کی شرح سے پگھل رہی ہے اور جیسے ہی یہ وزن کم ہوتا ہے زمین کی سطح بھی اوپر اٹھتی ہے۔
ماہرین کے بہترین ممکنہ منظر نامے کے مطابق اگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو محدود کیا گیا تو 21 ویں صدی کے آخر تک گرین لینڈ کا 0.9 میٹر زمین سمندر سے اوپر آئے گا۔ اگر اخراج میں کمی نہ کی گئی تو یہ اضافہ 2.5 میٹر تک پہنچ سکتا ہے۔
اس عمل میں زمین کی کشش ثقل بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بڑی برفانی تہہ کی وجہ سے سمندر کا پانی اس کی طرف کھنچا جاتا ہے اور جب برف کم ہوتی ہے تو کشش بھی کم ہوجاتی ہے جس سے سمندری سطح گرجاتی ہے۔
گرین لینڈ میں سمندری سطح کی کمی مقامی معیشت، ساحلی بنیادی ڈھانچے اور خوراک کی حفاظت پر اثر ڈال سکتی ہے کیونکہ انسانی آبادیاں زیادہ تر ساحلی علاقوں میں مرکوز ہیں۔




















