Advertisement
Advertisement
Advertisement
Advertisement

خواتین جنرل نشستوں پر ٹکٹ سے محروم، مخصوص نشستوں پر بھی اقربا پروری عروج پر

Now Reading:

خواتین جنرل نشستوں پر ٹکٹ سے محروم، مخصوص نشستوں پر بھی اقربا پروری عروج پر

کراچی کے حلقہ این اے 237 کے ووٹر واجد خان کا کہنا ہے کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارے حلقہ سے عام انتخابات سمیت بلدیاتی انتخابات میں بھی کسی خاتون نے براہ راست الیکشن میں حصہ نہیں لیا تو ہم کیسے کسی خواتین امیدوار کو ووٹ دیں؟

انہوں نے کہا کہ کسی خاتون امیدوار کے الیکشن میں حصہ لینے کے باوجود مجھ سمیت زیادہ تر ووٹرز مرد امیدوار کو ہی ووٹ دینے پر ترجیح دیں گے کیوں کہ ہم نے دیکھا کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین اس طرح الیکشن مہم نہیں چلاتیں کیوں کہ ایک مرد امیدوار  فرداً فرداً لوگوں سے ملتا ہے، کارنر میٹنگز سمیت چھوٹے اور بڑے جلسے بھی منعقد کرتا ہے لیکن ہمارے معاشرے میں ایک خاتون اس طرح کھل کر مہم نہیں چلاسکتی کیوں کہ وہ ایک سیاست دان ہونے کے ساتھ ساتھ کسی کی بہن، بیوی اور بیٹی بھی ہوتی ہے، لہذا ان پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھنا ہوتا ہے۔

واجد خان کا کہنا تھا کہ لوگ زیادہ تر خواتین کو ووٹ اس لیے بھی نہیں دیتے کیوں کہ وہ ایک مرد نمائندے کی طرح عوام کے لیے ہمہ وقت حاضر نہیں ہوتی، ویسے تو مرد سیاستدان بھی جیتنے کے بعد حلقوں کا رخ نہیں کرتے لیکن مخصوص لوگوں کے ذریعے ان تک رسائی مل جاتی ہے اور علاقہ مکینوں کے مسائل جیسے تیسے حل ہوجاتے ہیں لیکن ہم نے زیادہ تر دیکھا ہے کہ پارلیمنٹ کا رخ کرنے والی خواتین حلقہ کی سیاست میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتی، شاید یہی وجہ ہے کہ لوگ الیکشن کے وقت انہیں بھی زیادہ سنجیدہ نہیں لیتے۔

فروری کے عام انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن کی جانب سے ملک میں رجسٹرڈ ووٹرزکا ڈیٹا جاری کیا گیا جس کے مطابق ملک میں مرد ووٹرز کی شرح 53.87 فیصد جب کہ خواتین ووٹرز کی شرح 46.13 فیصد ہے۔ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ووٹرز کی مجموعی تعداد 12 کروڑ 85 لاکھ 85 ہزار  760 ہے جس میں سے مرد ووٹرز کی تعداد 6 کروڑ  92 لاکھ 63 ہزار 704 اور خواتین ووٹرزکی تعداد 5 کروڑ 93 لاکھ 22 ہزار 56 ہے۔

کراچی کے حلقہ این اے 237 میں 2018 کے عام انتخابات کی بات کی جائے تو یہاں سے کسی ایک خاتون نے بھی الیکشن میں حصہ نہیں لیا تھا جب کہ مجموعی طور پر کراچی کے قومی اسمبلی کی 21 سیٹوں پر صرف 15 خواتین نے الیکشن لڑا تھا جن میں پیپلزپارٹی کی شہلا رضا، پی ٹی آئی کی زنیرہ رحمان، ایم کیو ایم پاکستان کی کشور زہرہ پی ایس پی کی فوزیہ قصوری بھی شامل تھیں لیکن بدقسمتی سے ان میں سے کوئی ایک بھی اپنی نشست جیتنے میں کامیاب نہیں ہوسکیں۔

Advertisement

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رضا نے کہا کہ وہ 2018 کے عام انتخابات میں جنرل نشست پر الیکشن لڑچکی ہیں، وہ الگ بات کہ انہیں کامیابی نہیں ملی لیکن پارٹی کی جانب سے انہیں ٹکٹ دیا گیا تھا اور وہ آج بھی حلقہ کی سیاست کرتی ہیں۔

عام انتخابات میں آبادی کے مقابلے میں خواتین کی کم تعداد میں الیکشن لڑنے پر انہوں نے کہا کہ خواتین جنرل نشست کے لیے کاغذات نامزدگی جمع ہی نہیں کرواتی تو پھر پارٹی کیسے کسی کو ٹکٹ دے جب وہ خود ہی تیار نہیں البتہ اگر پارٹی نے مجھے ایک بار پھر موقع دیا تو میں پیچھے نہیں ہٹوں گی کیوں کہ میں نے اپنے حلقہ میں بہت محنت کی ہے۔

سندھ اسمبلی کی سابق ڈپٹی اسپیکر نے بتایا کہ انتخابات میں خواتین کا حصہ لینا ہی بہت بڑی کامیابی ہے کیوں کہ ہمارے مقابلے میں مرد یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں تو آسانی سے جنرل نشست مل جائے گی اور خواتین ویسے بھی مخصوص نشست پر منتخب ہوجائے گی۔

عوام کی جانب سے خواتین امیدواروں کو ووٹ نہ دینے سے متعلق سوال پر شہلا رضا کا کہنا تھا یہ سوال تو ووٹرز سے ہونا چاہیے کہ وہ خواتین امیدوار کو ووٹ کیوں کاسٹ نہیں کرتے اور اس حوالے سے ان کے کیا تحفظات ہیں، حالانکہ خواتین تو بلدیاتی سے لیکر صوبائی اور قومی اسمبلی کے انتخابات میں وقتاً فوقتاً حصہ لیتی رہتی ہیں۔

پارٹی کی جانب سے خواتین امیدواروں کو کم تعداد میں ووٹ دینے پر انہوں نے کہا کہ یہ پارٹی کا فیصلہ ہوتا ہے جسے ہمیں تسلیم کرنا ہوتا ہے البتہ پاکستان پیپلزپارٹی جہاں جہاں خواتین کو ٹکٹ دیتی ہے، وہاں انہیں پوری سپورٹ بھی فراہم کرتی ہے لہذا یہ بات درست نہیں کہ تمام سیاسی جماعتیں صرف خانہ پوری کے لیے خواتین کو ٹکٹ دیتی ہیں۔

آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 34 کہتا ہے کہ زندگی کے تمام شعبوں میں خواتین کی بھر پور شرکت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں لیکن قیام پاکستان سے اب تک اسمبلیوں میں خواتین کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر رہی ہے اور سیاسی جماعتیں بھی خواتین کو جنرل نشست پر ٹکٹ دینے میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہیں تاہم الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت تمام سیاسی جماعتوں کو پابند کیا گیا کہ وہ کم از کم 5 فیصد خواتین کو لازمی ٹکٹ دیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ 2018 کے عام انتخابات بڑی سیاسی جماعتوں نے 5 فیصد تک خواتین امیدواروں کو ٹکٹ جاری کیے جن میں جماعت اسلامی، جمعت علمائے اسلام اور تحریک لبیک پاکستان جیسی مذہبی جماعتیں بھی شامل تھیں۔

Advertisement

الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر موجود ڈیٹا کے مطابق جن سیاسی جماعتوں نے 2018 کے عام انتخابات میں خواتین کو ٹکٹ جاری کیے وہ بھی صرف قانونی کارروائی پوری کرنے کے لیے تھے کیوں کہ کسی ایک جماعت نے بھی 5 فیصد سے زیادہ خواتین کو ٹکٹ جاری نہیں کیے۔  2018 کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے قومی وصوبائی اسمبلی کے لیے سب سے زیادہ 43 خواتین کو ٹکٹ جاری کیے گئے جس کے بعد پی ٹی آئی نے 42، مسلم لیگ (ن) نے 37، متحدہ مجلس عمل نے 33، اے این پی نے 14 اور ایم کیو ایم پاکستان نے 6 خواتین کو ٹکٹ جاری کیے۔

چند روز قبل جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کی جانب سے عام انتخابات میں 50 سے زائد خواتین کو ٹکٹ دینے کا اعلان کیا گیا۔ جے یو آئی رہنما راشد سومرو کا کہنا تھا کہ سندھ کے تمام حلقوں سے صوبائی اور قومی اسمبلی کیلئے امیدوار نامزد کیے گئے ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام سندھ کے ترجمان مولانا سمیع الحق سواتی، جو کراچی کے حلقہ پی ایس 116 سے جماعت کے امیدوار بھی ہیں، انہوں نے بول نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ راشد سومرو صاحب کے اعلان کے مطابق ہماری 50 سے زائد خواتین نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں اور صرف کراچی سے جماعت کی 7 سے 8 خواتین جنرل نشست پر الیکشن لڑیں گے تاہم سندھ بھر سے کل کتنی خواتین انتخابی میدان میں اتریں گے، یہ ابھی حتمی طور پر نہیں بتایا جاسکتا کیوں کہ بہت سے حلقوں میں ابھی سیٹ ایڈجسمنٹ کی بات چل رہی ہے اور ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ جس جماعت کے ساتھ ہماری سیٹ ایڈجمسنٹ ہو، وہاں پر جو جماعت مضبوط ہوگی اسی کے نمائندہ کو میدان میں اتار جائے گا۔

خواتین کو کمزور حلقوں سے ٹکٹ دینے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی سچائی نہیں کیوں کہ اکثر ہم نے دیکھا ہے کہ بڑی سیاسی جماعتوں کے اہم مرد امیدوار بھی ہار جاتے ہیں، کیوں کہ الیکشن والے دن کسی بھی سیاسی جماعت کی مقبولیت اور شخصیت پرستی سمیت بہت سے عوام ہوتے ہیں، اور ہم نے پچھلے انتخابات میں بھی دیکھا کہ تقریباً تمام جماعتوں نے خواتین کو ٹکٹ جاری کیے تھے لیکن اس کے باجود صرف 8 خواتین کو ہی کامیابی مل سکی لہذا ہر جماعت کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ جب کسی کو ٹکٹ دیں تو وہاں سے ان کی ہی جماعت کو جیت نصیب ہو، ہم تو چاہتے ہیں کہ ہم نے جتنی بھی خواتین کو ٹکٹ جاری کیا ہے وہ سب جیت کر پالیمنٹ کا حصہ بنیں۔

مولانا سمیع الحق سواتی کا کہنا تھا کہ خواتین کو حلقہ کی سیاست میں مشکلات ضرور پیش آتی ہیں لیکن اس کے باوجود وہ اس کو بطور چیلنج قبول کرتے ہوئے بھرپور مہم چلاتی ہیں لیکن یہ سب ایک ٹیم ورک کا نتیجہ ہوتا ہے لہذا جہاں خواتین نہیں پہنچ سکتی وہاں پارٹی کے مرد حضرات ان کی سپورٹ کرتے ہیں۔

جمعت علمائے اسلام سندھ کے ترجمان کا مخصوص نشستوں سے متعلق سوال پر کہنا تھا کہ مخصوص نشست پر تمام سیاسی جماعتوں کی ایک روایت چلتی آرہی ہے اور ہر پارٹی کوشش کرتی ہے کہ وہ سنیارٹی اور تجربہ کی بنیاد پر خواتین کو ٹکٹ جاری کریں اور کوشش کی جاتی ہے ایسی خواتین کو مخصوص نشستوں پر پارلیمںٹ بھیجیں جو پہلے بھی پارلیمانی نظام کا تجربہ رکھتی ہوں تاکہ وہاں وہ قانون سازی سمیت دیگر امور میں اہم کردار ادا کرسکیں۔

Advertisement

مخصوص نشستوں پر پارلیمنٹ کا حصہ بننے والی خواتین سیاسی عمل میں دلچسپی لیتی ہیں؟ اس سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر ہم 2013 سے 2018 کی اسمبلی کی بات کریں تو ہماری رکن اسمبلی نعیمہ کشور کا نام سرفہرست تھا، اسی طرح عالیہ کامران نے بھی ایوان میں بھرپور کردار ادا کیا جب کہ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والی ہماری خاتون رکن پارلیمنٹ آسیہ ناصر کی کارکردگی بھی سب کے سامنے ہے۔

الیکشن کمیشن کے ریکارڈز کے مطابق ملک میں پہلے براہ راست انتخابات 1970 میں ہوئے جس میں 9 خواتین نے الیکشن میں حصہ لیا لیکن کسی کو کامیابی نہیں ملی اور خواتین کے لیے مخصوص سیٹوں کا کوٹہ نہ ہونے کی وجہ سے اسمبلی میں خواتین کی نمائندگی نہیں تھی۔ قومی اسمبلی میں خواتین کو نمائندگی دینے کے لیے 1977 کے انتخابات میں 10 مخصوص نشستیں رکھی گئیں اور ان انتخابات میں صرف ایک خاتون کو جنرل نشست پر کامیابی مل سکی اور یوں قومی اسمبلی میں خواتین کی تعداد 5.1 فیصد رہی۔

جنرل ضیاالحق کی حکومت کے دوران غیرجماعتی انتخابات میں قومی اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں کو بڑھا کر 20 کردیا گیا جب کہ 15 خواتین نے جنرل نشست پر الیکشن لڑا جس میں صرف ایک کو ہی کامیابی مل سکی اور یوں 237 رکنی ایوان میں خواتین کی نمائندگی 8.9 فیصد رہی۔  1988 کے عام انتخابات میں 16 میں سے 3 خواتین کو کامیابی ملی جس میں ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم بے نظیر بھٹو بھی شامل تھیں اور اس بار خواتین کی نمائندگی 9.7 فیصد رہی۔

1990 کے انتخابات سے قبل خواتین کی مخصوص نشستوں کا کوٹہ ختم کردیا گیا اور اس الیکشن میں 12 میں سے صرف دو خواتین کو ہی کامیابی ملیں، یوں قومی اسمبلی میں خواتین کی نمائندگی 0.9 فیصد رہی۔ 1993 کے انتخابات میں 14 میں سے صرف 4 خواتین کامیاب ہوئیں اور یوں ان کی نمائندگی 1.8 فیصد رہی۔ 1997 کے انتخابات میں 35 میں سے صرف 5 کو کامیابی ملی۔

بعد ازاں سابق صدر پرویز مشرف نے آئین میں ترمیم کے ذریعے خواتین کی مخصوص نشستیں دوبارہ بحال کیں اور اس بار انہیں 60 نشستیں دی گئیں۔ 2002 کے عام انتخابات میں 57 خواتین نے جنرل نشست پر انتخاب لڑا جن میں سے 13 کو کامیابی ملی، جس کے بعد 342 کے ایوان میں خواتین کی تعداد 73 تھی۔ 2008 کے عام انتخابات میں 64 خواتین نے جنرل نشست پر الیکشن لڑا جس میں 16 نے کامیابی حاصل کی۔

قومی اسمبلی کے ریکارڈز کے مطابق 2013 کے عام انتخابات میں 135 خواتین امیداروں نے الیکشن میں حصہ لیا جن میں صرف 5 کو کامیابی مل سکی۔ پیپلزپارٹی (فریال تالپور، عذرا فضل پیچوہو اور فہمیدہ مرزا)، مسلم لیگ نواز (غلام بی بی بھروانہ اور سائرہ افضل تارڑ)۔ بعد ازاں مسلم لیگ نواز کی (کلثوم نواز، شذرہ منصب ، شازیہ مبشر) اور پاکستان پیپلزپارٹی کی (شمس النسا) کو ضمنی انتخابات میں کامیابی ملی۔

Advertisement

2018 کے عام انتخابات میں ملک بھر سے قومی اسمبلی کی نشست پر 183 خواتین امیدواروں نے الیکشن لڑا لیکن ان میں سے صرف 8 کو ہی کامیابی مل سکی۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی (نفیسہ شاہ، شازیہ مری اور شمس النسا)، پی ٹی آئی (غلام بی بی بھروانہ اور زرتاج گل)، مسلم لیگ نواز (مہناز اکبر عزیز)، بلوچستان عوامی پارٹی (زبیدہ جلال)، جی ڈی اے (فہمیدہ مرزا)۔

خواتین کی مخصوص نشستوں کی بات کی جائے تو اس پر ہمیں ہر جماعت میں مخصوص چہرے ہی دکھائی دیتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں یہاں بھی غیر جمہوری عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پارٹی ورکرز کو متخب کرنے کے بجائے سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے خاندان کے افراد کو ہی اسمبلی میں بیٹھنے کا موقع دیتے ہیں۔

فافن (فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک) کی دو فروری 2023 کی ایک رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والی 57 فیصد خواتین کا تعلق ملک کے 6 بڑے شہروں سے ہیں جن میں اسلام آباد، راولپنڈی، کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ شامل ہیں۔ جب کہ ملک کے 136 اضلاع میں سے 105 اضلاع ایسے ہیں جن میں سے مخصوص نشستوں پر ایک بھی رکن قومی اسمبلی نہیں ہے۔

فافن کی رپورٹ کے مطابق مخصوص نشستوں پر پنجاب اسمبلی پہنچنے والی 59 فیصد خواتین کا تعلق لاہور سے تھا۔ سندھ اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر موجود خواتین میں سے 66 فیصد کا تعلق کراچی سے تھا۔ اسی طرح کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی 73 فیصد خواتین مخصوص نشستوں پر بلوچستان اسمبلی کی ارکان تھیں۔ خیبر پختونخوا کی مخصوص نشستوں پر 50 فیصد خواتین کا تعلق پشاور سے تھا۔

فری اینڈ فئیر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کے ترجمان صلاح الدین صفدر نے کہا کہ ملک بھر سے خواتین کو نمائندگی دینے کے لیے الیکشن ایکٹ 2002 میں نظرثانی کی ضرورت ہے جس میں خواتین کو 60 مخصوص نشستیں دیکر ایوان میں نمائندگی تو دی گئی ہے لیکن جس طرح فافن کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ وہ مخصوص شہروں سے ہی آتی ہیں لہذا اس ایکٹ میں مزید ترمیم کی جانے چاہیے اور ان نشستوں پر تمام صوبوں کے تمام حلقوں کی نمائندگی تو ممکن نہیں لیکن زیادہ تر علاقوں اور طبقات کی نمائندگی ہونی چاہیے۔

جنرل نشست پر خواتین کے انتخابات میں حصہ لینے پر انہوں نے کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کے بعد انتخابات لڑنے والی خواتین کی تعداد میں تو اضافہ ہوا ہے لیکن خود خواتین پارلیمنٹیرین نے ہمیں یہ شکوہ کیا کہ عموماً ہمیں ایسے حلقوں سے ٹکٹ دیے جاتے ہیں جہاں پارٹی کے جیتنے کے کوئی امکانات نہیں ہوتے اور یہ ٹکٹ صرف خانہ پوری کی لیے دی جاتی ہیں۔ خواتین ارکان اسمبلی نے ہمیں بتایا کہ اس کے لیے کچھ اس طرح کے قوانین بنائے جائیں کہ سیاسی جماعتیں ان حلقوں سے بھی خواتین کو میدان میں اتاریں جہاں سے جیتنے کے امکانات زیادہ ہوں۔

Advertisement

ترجمان فافن کا کہنا تھا کہ اگر ہم خواتین کی نمائندگی بڑھانے میں سنجیدہ ہیں تو ہمیں پڑوسی ملک کی طرح ایک ماڈل لانا ہوگا جیسے انہوں نے کچھ حلقے مختص کردیے ہیں جہاں صرف خواتین امیدوار ہی ہوں گی اور ساری جماعتوں پر لازم ہے کہ وہاں صرف خواتین امیدوار کو ٹکٹ دیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے مخصوص نشستوں کا کوٹہ ایک عارضی طور پر لایا گیا تھا جس کا مقصد خواتین کو اتنا بااختیار بنانا تھا کہ وہ پارلیمنٹ میں مردوں کے ساتھ بیٹھ کر سیاسی عمل میں شامل ہوجائیں اور پھر الیکشن لڑنے کے قابل ہوجائیں اور بعد ازاں اسے 2002 میں مستقل بھی کردیا گیا لیکن اس کا اصل مقصد اب بھی پورا نہیں ہوسکا اور دوسری جانب سیاسی جماعتیں صرف الیکشن ایکٹ 2017 کو پورا کرنے لیے 5 فیصد خواتین کو ہی ٹکٹ جاری کرتی ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ قانون کے تحت ٹکٹ دے دیے گئے لہذا کسی چھٹی خاتون کو لانے کی ضرورت نہیں تاہم اس شرح کو بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ ایوان میں خواتین کو ان کی آبادی کے لحاظ سے نمائندگی مل سکے۔

حلقہ کی سیاست میں خواتین کے مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ خواتین کو حلقہ کی سیاست میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ انہیں مردوں کی طرح مکمل آزادی نہیں ہوتی لیکن چونکہ وہ سیاست کا حصہ ہوتی ہیں تو سیاسی رہنما ہی معاشروں میں ایسی تبدیلیاں لاتی ہیں۔

پارلیمنٹ میں خواتین کی کارکردگی سے متعلق صلاح الدین صفدر کا کہنا تھا کہ فافن نے اپنی متعدد رپورٹس میں یہ نشاندہی کی ہے کہ ایوان میں مردوں کے مقابلے میں خواتین ارکان اسمبلی کی کارکردگی زیادہ بہتر ہوتی ہے، وہ نہ صرف باقاعدگی سے ایوان کا حصہ بنتی ہیں بلکہ ایوان میں ایجنڈا بھی لاتی ہیں اور انہیں فالو بھی کرتی ہیں۔

Advertisement
Advertisement

Catch all the Business News, Breaking News Event and Latest News Updates on The BOL News


Download The BOL News App to get the Daily News Update & Live News


Advertisement
آرٹیکل کا اختتام
مزید پڑھیں
وفاقی اورصوبائی حکومت کے ساتھ مل کرپولیو کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں، وزیراعظم
’’بانی پی ٹی آئی نے باربارکہا کہ ٹی ٹی پی والے ہمارے دوست ہیں‘‘
پنجاب اسمبلی میں توہین مذہب سے متعلق قرارداد منظور
ٹی 20 ورلڈ کپ، سپر 8، جنوبی افریقہ نے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا
’’ڈاکوؤں کیخلاف ٹارگٹڈ آپریشن کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے‘‘
جنوبی کوریا، لیتھیم بیٹری کے کارخانے میں آگ بھڑک اٹھی، 22 افراد ہلاک
Advertisement
توجہ کا مرکز میں پاکستان سے مقبول انٹرٹینمنٹ
Advertisement

اگلی خبر