Advertisement
Advertisement
Advertisement
Advertisement

قُم:معصومۂ قم اور درجنوں بادشاہوں، شہزادوں اور شہزادیوں کی آرام گاہیں

Now Reading:

قُم:معصومۂ قم اور درجنوں بادشاہوں، شہزادوں اور شہزادیوں کی آرام گاہیں

جس راستے پر دو روز پہلے ہم تہران سے اصفہان جا رہے تھے اب اُسی راستے پر کاشان سے قُم کا سفر ہو رہا ہے۔ باغستانِ جواد غلام حسینی سے گزرتے ہوئے یہ خیال آیا کہ ایران میں باغ ایک طاقتور تہذیبی استعارہ ہے۔ سعدی کا تو دیوانِ ہی گلستان اور بوستان ہے۔ پھر فارسی شاعری میں باغ، بلبل، پھول اور مالی کا جس تواتر اور تسلسل سے استعمال ہوا ہے، اس سے تو اردو سب سے زیادہ متاثر ہوئی۔ اردو شاعری میں بھی باغ اور بلبل کا استعمال تواتر سے ہوا ہے۔لیجیئے اب ایک اور پارک آ رہا ہے، کمربند سبز خذاق، اب ہم کس سے پوچھیں کہ بھائی، یہ کمربند اور سبزے کا آپس میں کیا تعلق ہے۔ باغ آیا ہے تو کیا دشت نہیں آئے گا؟ جی لیجیئے ، دشت بھی آ گیا۔ اس کا نام ہے دشت مہدیہ خذاق، گویا یہاں پر بھی کھیت ہی ہے۔ اب ہمارے دائیں جانب خشک دودھ تیار کرنے کے کارخانے ہیں۔ دائیں جانب کو ہی ایک قلعہ ہے جس کا نام قلعۂ باستانی( سفید) ہے۔ اب ایک صحرا آ گیا، یہ دشت باقر آباد ہے۔اب ہمارے دائیں جانب مشکات شہر آگیا۔ ہمیں لفظ مشکات کے معنی لالٹین بتائے گئے ہیں۔ سات آٹھ ہزار آبادی کا چھوٹا شہرہے۔ اسی شہر کے نام پر ایران نے ایک میزائل بھی بنایا ہے۔ یہ میزائل خشکی، سمندر، فضاء غرض ہر جگہ سے فائر کیا جا سکتا ہے اور اس کی رینج دو ہزار کلومیٹر ہے۔ اس شہر کو مُشکان بھی کہا جاتا ہے۔ راستے میں شاپنگ مال دیکھ کر ایرانیوں کے ذوق تجارت کا پتہ چلتا ہے۔ کچھ دیر چلنے کے بعد خلیج فارس ایکسریس وے اورقم کاشان روڈ ایک دوسرے کے قریب آ جاتی ہیں۔اب وہ مقام آ گیا ہے جب صوبہ اصفہان کی سرحد ختم ہو رہی ہے اوصوبہ قم کی حدود شروع ہو رہی ہیں۔ ہم اب تک باغ، گلشن، باغستان اور گلستان کے نام سنتےاور پڑھتے آرہے تھے۔ اب ایک نئی اصطلاح اور نئے نام سے واقف ہو رہے ہیں ۔ یہ نیا نام اور نئی اصطلاح “گلخانہ” تھی۔ یہ گلخانۂ شجاع قم تھا۔ گویا اب ہم قم سے قریب ہو رہے ہیں۔ دو دن پہلے ہم یہاں سے گزر تھے مگر قم شہر کے قریب کہیں رُکے نہیں تھے۔ اب ہم لمحہ بہ لمحہ قُم کے قریب ہوتے جا رہے ہیں۔ میں چوتھی یا پانچویں بار قُم آ رہا ہوں۔ اب خلیج فارس ایکسپریس وے، امیرکبیر ایکسپریس وے اور کاشان قُم روڈ نے اپنی اپنی راہیں الگ الگ کر لی ہیں ۔ کاشان قُم روڈ تو پہلے ہی سے اپنا الگ راستہ بنا کر چل رہی تھی۔ مگرخلیج فارس ایکسپریس وے اور امیرکبیر ایکسپریس وے ایک ہی شاہراہ پر دونوں نام کے ساتھ چل رہی تھی۔ پھر قُم آنے سے پہلے یہ دونوں شاہراہیں عملاً ایک دوسرے سے جدا ہوگئیں ۔اب ہم قُم کیلئے ایک الگ روڈ پر آ گئے ہیں جو ہمیں دریائے قم کے مغربی کنارے پر لے آئی ہے۔ ہم بہت سی دوسری گاڑیوں اور کاروں کے درمیان پارکنگ کی جگہ دیکھ کر گاڑی پارک کر دیتے ہیں اور گاڑی سے نیچے اُتر آتے ہیں۔ ہمارے سامنے پُل کی دوسری جانب دریا کے مشرقی کنارے پر معصومۂ قم کا مزار نظر آ رہا ہے۔ اسے احتراماً حرم کہا جاتا ہے۔ایران میں مشہد کے بعد یہ دوسرا بڑا مقام ہے جسے اثناعشری مسلمانوں کے نزدیک بہت زیادہ عقیدت، احترام اور تقدس کا درجہ حاصل ہے۔


اس مزار کے احاطے میں معصومۂ قم کے بھتیجے اور اثنا عشری مسلمانوں کے نویں امام محمد تقی کی تین صاحبزادیاں بھی دفن ہیں۔ اس مزار کا احاطہ 4 لاکھ دس ہزار مربع فٹ ہے۔ یہاں مزار کی ضریح کے علاوہ تین بڑے ہال ہیں۔ ان تینوں ہالوں طباطبائی ہال، بالاسار ہال اور آدھم ہال میں لوگ نماز، نوافل اور دعاؤں میں مصروف رہتے ہیں۔ مزار کے اوپر سونے کا گنبد ہے۔ آپ جس موسم، جس مہینے، جس دن اور جس وقت بھی یہاں پہنچیں، آپ کو یہاں زائرین کا ایک بڑا ہجوم ملے گا۔ یہاں ماحول میں ایک تقدس کا سا احساس رہتا ہے۔ اس درگاہ سے ایک ماہانہ جریدہ شائع ہوتا ہے جس کا نام پیامِ آستاں ہے۔
روایات میں بتایا جاتا ہے کہ امام موسیٰ کاظم کی اسیری کے دوران زہر دیئے جانے سے ہونے والی شہادت کے بعد اُن کے صاحبزادے امام علی رضا بھی اسیر بنا دیئے گئے۔ ہم نے دو عشرے سے بھی زیادہ عرصہ پہلے مشہد کے قریب واقع فردوسی اور نظام الملک طوسی کے شہر طوس میں زندانِ ہارون دیکھا تھا جہاں راویوں کے مطابق انام علی رضا کو اسیر رکھا گیا تھا۔ مگر اُن کی اسیری کا زمانہ مامون الرشید کا دور بتایا جاتا ہے۔ اس زندان کے بالکل سامنے میرے دوست جناب مشتاق احمد فریدی تصویر بنا رہے تھے۔ وہ تصویر بنانے کیلئے پچھلے قدموں سے پیچھے ہٹتے جا رہے تھے اچانک انہوں نے مڑ کر ایک قبر کو دیکھا اور پھر ہکا بکا ہو کر مجھے پکار کر کہا یہاں آؤ، یہ تو امام غزالی کی قبر ہے۔
کیا جاتا ہے کہ سیدہ بی بی فاطمہ معصومہ اپنے بھائی سے ملنے کیلئے مدینہ منورہ سے مشہد جانے کیلئے روانہ ہوئیں اور جب وہ ساوہ نامی شہر میں پہنچیں تو وہاں پر بیمار پڑ گئیں اور چند روزہ علالت کے بعد آپ نے وہاں سے قم آنے کی خواہش ظاہر کی اور پھر یہاں پہنچ کر اسی علالت میں سیدہ بی بی کا انتقال ہوگیا۔ یہ مقام پہلے قم شہر سے باہر تھامگر پھر اسی مقام پر آپ کا مقبرہ بنایا گیا اور وقت کے ساتھ یہ مقام شہر کا نہ صرف حصہ بن گیا بلکہ شہر کا مرکز بن گیا۔ سیدہ بی بی کا مزار سنی مسلک کے آلِ بویہ کے بادشاہ نے تعمیر کرایا۔ یہ خاندان 934ء سے 962ء تک عراق، وسطی اور جنوبی ایران پر حکمران رہا۔ مزار کی تعمیر کا سلسلہ سلجوقوں، قاراقویونلولار بادشاہوں اور آق قویونلولار سلطنت کے زمانے میں بھی جاری رہا۔ آذربائیجان کے عثمان بیگ کے دور میں بھی مزار کی تعمیر اور تزیئن کا کام ہوتا رہا۔ مگر مزار کی جو شکل ہے، وہ صفوی اور کاجار سلطنت کے دور میں تعمیر ہوئی۔ تیمور لنگ کے دور میں اس شہر کو تاخت وتاراج کر دیا گیا۔ مگر صفوی دور میں قم کی نئے سرے سے تعمیر ہوئی بلکہ صفوی بادشاہ اسمعیل اول کی بیٹی شہزادی شاہ بیگم نے سیدہ بی بی معصومۂ قم کے مزار کی تزئین و خوبصورتی کیلئے ذاتی نگرانی میں کام کرایا۔

Advertisement
یہاں پر 1548ء میں پیدا ہونے والی 31 سالہ صفوی شہزادی خیرالنساء بیگم دفن ہیں۔ یہاں 1642ء میں فوت ہونے والے شہنشاہِ ایران شاہ صفی کی قبر ہے۔ یہاں 1666ء کو انتقال کرنے والے صفوی شہنشاہ شاہ عباس دوم کی قبر ہے۔ یہاں 1694ء کو فوت ہونے والے شہنشاۂ فارس شاہ سلیمان اول بھی دفن ہیں۔ یہاں موجود قبرستان میں 1722ء کو معزول اور1726ء میں فوت ہونے والے ایک اور صفوی شہنشاہ شاہ سلطان حسین کا مدفن ہے۔ اسی مقام پر 1739ء کو فوت ہونے والے صفوی بادشاہ شاۂ عباس سوم کی قبر ہے۔
یہاں درجنوں بادشاہ، وزرائے اعظم، وزراء سفیر صاحبان، جید علماء درجنوں شہزادے اور شہزادیاں دفن ہیں۔
فرغانہ سے نکل کر ہمارے برصغیر پر قبضہ کرنے مغل باشاہوں کی قبریں شاید کسی ایک مقام پر نہیں۔ ظہیرالدین بابر کابل میں دفن ہے۔ نصیرالدین ہمایوں کا مقبرہ دہلی میں ہے۔ جلال الدین اکبر فتح پور سیکری، نورالدین جہانگیرلاہور، شہاب الدین شاہجہان آگرہ، اورنگ زیب عالمگیر خلد آباداورنگ آباد اور آخری مغل بادشاہ بہادرشاہ ظفر برما کے شہر رنگون میں دفن ہے۔
ہم دریائے قُم کی دوسری جانب معصومۂ قم کے مزار کی طرف دیکھتے ہیں۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد دریا کے دوسرے کنارے مزار کی طرف جاتی دکھائی دے رہی ہے۔ یہاں پر آنے کے بعد ہمیں ایران میں خواتین کی ایک بڑی تعداد عبایہ میں نظر آئی۔ اپنے وطن سے روانہ ہوتے وقت ہم نے یہ سوچا ہوا تھا کہ ہمیں پورا ایران ویسا ہی نظر آئے گا جیسا مغربی میڈیا بتاتا آ رہا ہے۔ یہی کہ ایک لڑکی کے سر پر سے دوپٹہ اُتر جانے پر اُسے ملاؤں نے زندہ جلا دیا۔ یہ سارا پروپیگنڈا تھا۔ میں نے بے شمار خواتین اور لڑکیوں کو عبایہ کے بغیر سر پر دوپٹہ لئے یا ننگے سر دیکھا۔ میں نے ایران میں بے پردگی دیکھی، بے حیائی نہیں دیکھی۔ (جاری ہے)

Advertisement
Advertisement

Catch all the Business News, Breaking News Event and Latest News Updates on The BOL News


Download The BOL News App to get the Daily News Update & Live News


Advertisement
آرٹیکل کا اختتام
مزید پڑھیں
آرمینیا نے بھی فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرلیا
سول اسپتال کراچی میں 36 کروڑ روپے مالیت کی کینسر کی دوائیں چوری ہوگئیں
ضلع کرک میں دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے 5 سیکیورٹی اہلکار شہید
ملک کے معروف برآمد کنندگان کا حکومتی معاشی پالیسیوں پر مکمل اعتماد کا اظہار
بہتر ہوتا حکومت پیپلزپارٹی سے مشاورت کرکے بجٹ بناتی، بلاول بھٹو
اسٹیشنری آئٹمز پر سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے کی مخالفت، میڈیکل آلات پر ٹیکس چھوٹ کی سفارش
Advertisement
توجہ کا مرکز میں پاکستان سے مقبول انٹرٹینمنٹ
Advertisement

اگلی خبر