Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

شہبازشریف کی جانب سے دائر ہرجانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی کا حق دفاع بحال

سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کا حق دفاع ختم کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے دائر کردہ ہرجانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی کا حق دفاع بحال کردیا۔

سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے دو ایک کی اکثریت سے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دے کر بانی پی ٹی آئی کی نظرثانی درخواست منظور کرلی۔

جسٹس عائشہ ملک نے مختصر فیصلہ سنایا جس میں کہا گیا کہ ٹرائل کورٹ بانی پی ٹی آئی کا حق دفاع بحال کرکے قانون کے مطابق کارروائی آگے بڑھائے۔ بانی پی ٹی آئی کا حق دفاع کرنے کے خلاف نظرثانی اپیل منظور کی جاتی ہے۔

 یاد رہے کہ 2017 میں بانی پی ٹی آئی نے موجودہ وزیراعظم شہباز شریف پر پانامہ کیس واپس لینے کے لیے رقم کی پیشکش کرنے کا الزام عائد کیا تھا اور بانی پی ٹی آئی کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا۔

ہتک عزت کا کیس 8 سال سے ٹرائل کورٹ میں زیر التوا ہے، شہباز شریف بطور وزیراعظم ہر کیس میں ویڈیو لنک کے ذریعے ٹرائل میں پیش ہوتے رہے۔

بانی پی ٹی آئی نے ٹرائل کورٹ میں 70 سے زائد مرتبہ التوا مانگا، چار سال کی تاخیر سے بانی پی ٹی آئی نے ہتک عزت کیس میں جواب جمع کرایا۔

ٹرائل کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کا حق دفاع ختم کردیا تھا جبکہ لاہور ہائیکورٹ نے بھی حق دفاع ختم کرنے کا فیصلہ بحال رکھا تھا جس کے بعد بانی پی ٹی آئی نے حق دفاع ختم کرنے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔

جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس عائشہ ملک پر مشتمل تین رکنی بینچ نے حق دفاع ختم کرنے کے ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل سنی تھی اور بانی پی ٹی آئی کا حق دفاع ختم کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

جسٹس عائشہ ملک نے بانی پی ٹی آئی کا حق دفاع ختم کرنے کے فیصلے سے اختلاف کیا تھا جبکہ نظرثانی اپیل جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سنی جس میں جسٹس ہاشم کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔