موسمِ کوئی بھی ہو گھر سے باہر جاتے بیشتر افراد دھوپ سے بچنے کے لیے سن گلاسز، سن اسکرین یا کیپ کا استعمال کرتے ہیں تاہم یہ سب فیشن سے زیادہ ضرورت بن چکی ہیں۔
اس ضمن میں ماہرین کا کہنا ہے کہ سن گلاسز آنکھوں کو سورج کی نقصان دہ شعاعوں سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے جیسے سن اسکرین جلد کو الٹرا وائلٹ (یو وی) شعاعوں سے بچاتا ہے، اسی طرح سن گلاسز بھی آنکھوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کافی اور آنکھوں کی صحت کے درمیان کیا تعلق ہے؟ ماہرین کا اہم انکشاف
سورج سے نکلنے والی الٹرا وائلٹ شعاعیں نہ صرف جلد بلکہ آنکھوں کے لیے بھی نقصان دہ ہوتی ہیں، ماہرین کے مطابق یہ خطرناک شعاعیں آنکھوں کی مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتی ہیں۔
ان بیماریوں میں سے ایک ہے آئی لڈ کینسر، جو آنکھوں کے پپوٹوں پر سورج کی شعاعوں کے اثر سے ہو سکتا ہے۔ اگرچہ یہ کینسر زیادہ خطرناک نہیں ہوتا، لیکن یہ بے احتیاطی سے دھوپ میں بغیر کسی تحفظ کے باہر نکلنے سے پیدا ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ، سورج کی یو وی شعاعوں سے “سن برنڈ آئز” یعنی آنکھوں کا جھلسنا بھی ممکن ہے۔ اس سے آنکھوں کا کورنیا جھلس سکتا ہے، جس کے نتیجے میں جلن، سوجن، آنکھوں سے پانی آنا یا آنکھوں کا لال ہونا جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
کیا ہر سن گلاسز آنکھوں کو محفوظ رکھتے ہیں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام سن گلاسز سورج کی شعاعوں سے مکمل تحفظ فراہم نہیں کرتے۔ صرف وہی گلاسز فائدہ مند ہوتے ہیں جو یو وی شعاعوں کو بلاک کرتے ہیں۔ یہ گلاسز آنکھوں کو ان بیماریوں سے بچا سکتے ہیں جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔
سن گلاسز کے یو وی پروٹیکشن کا جائزہ لینے کے لیے فوٹو میٹر کا استعمال کیا جاتا ہے، جو بعض ماہرِ چشم کے پاس موجود ہوتا ہے۔ اس ذریعے سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ آپ کے سن گلاسز کتنی حد تک یو وی شعاعوں سے بچا سکتے ہیں۔
یعنی سن گلاسز صرف فیشن کا حصہ نہیں بلکہ یہ آنکھوں کی صحت کے لیے ضروری ہیں، بشرطیکہ وہ صحیح معیار کے ہوں اور یو وی پروٹیکشن فراہم کرتے ہوں۔




















