Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

تھرمل مگ میں کافی پینا جان لیو ثابت ہوا

نامعلوم شخص جس کی عمر 50 برس تھی، اور 30 سال سے زیادہ ڈرائیونگ کا تجربہ رکھتا تھا،

تائیوانی شخص نے تقریباً 20 برس تک روزانہ ایک ہی تھرمل مگ کو کافی پینے کے لیے استعمال کیا، جس سے اس میں موجود سیسہ کا زہر اس کی موت کی وجہ بن گیا۔

یہ نامعلوم شخص جس کی عمر 50 برس تھی، اور 30 سال سے زیادہ ڈرائیونگ کا تجربہ رکھتا تھا، تاہم ایک دن وہ کام پر جاتے ہوئے اپنی گاڑی کو ایک دکان سے  ٹکرا گیا۔

روڈ پرموجود اہلکاروں نے اسے نیم بے ہوشی کی حالت میں اسپتال پہنچایا جہاں مختلف ٹیسٹ کیے گئے جس میں شدید انیمیا، دماغی کمزوری اور گردے کے غیر معمولی فعل کی علامات سامنے آئیں۔ تاہم اسے مزید علاج کے لیے نیفرالوجی ڈیپارٹمنٹ میں منتقل کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: صحت مند دانت، لمبی زندگی؟ جاپانی تحقیق نے حیران کن حقیقت بے نقاب کر دی

مزید تحقیقات میں پتہ چلا کہ اس شخص کو حالیہ دنوں میں تھکاوٹ کا سامنا تھا اور اس کے منہ کا ذائقہ بھی بدل گیا تھا، اور اکثر اسے محسوس ہوتا تھا کہ کھانا نمکین نہیں ہے۔ یہ تمام علامات سیسہ کے زہر کی نشاندہی کر رہی تھیں، کیونکہ اس کے خون کے ٹیسٹوں سے تصدیق ہو گئی تھی۔

جب ڈاکٹروں نے زہر کا ذریعہ پتہ لگانے کی کوشش کی، تو معلوم ہوا کہ یہ شخص تقریباً 20 سالوں سے روزانہ کافی پینے کے لیے ایک ہی تھرمل مگ کا استعمال کر رہا تھا۔ اس مگ کا اندرونی حصہ زنگ آلود ہو چکا تھا اور وہ روزانہ کی کافی میں سیسہ ملا رہا تھا۔

اس کے بعد اس شخص میں دماغی مسائل پیدا ہونے لگے صحت بھی گرنے لگی، اس طرح وہ نمونیا میں مبتلا ہو گیا اور گاڑی کے حادثے کے تقریباً ایک سال بعد وفات پا گیا۔

تائیوان کے نیفرالوجسٹ ہنگ یونگ شیانگ کا کہنا ہے کہ تیزاب یا الکلائن مشروبات جیسے کہ پھلوں کا رس، کافی، چائے، اور روایتی چینی دوا جب پرانی یا خراب انسولیٹڈ کپ میں طویل عرصے تک رکھی جائیں، تواس میں زہر شامل ہونا شروع ہوجاتا ہے۔

ہنگ یونگ شیانگ نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے تھرمل مگ کی حالت کو باقاعدگی سے چیک کریں، اوراپنے پانی کی بوتلیں یا تھرمل مگ کو وقتاً فوقتاً بدلتے رہیں، تاکہ ممکنہ طور پر کسی بھی صحت کے مسائل سے بچا جا سکے۔

متعلقہ خبریں