ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 سے پہلے ایشیائی کرکٹ کے میدان سے بڑی خبر سامنے آگئی۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو ہنگامی سطح پر مداخلت کرنا پڑ گئی اور ایشیا کی پانچ بڑی کرکٹ طاقتوں کے سربراہان کو ایک میز پر بٹھانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
ذرائع کے مطابق کولمبو میں 15 تاریخ کو شیڈول پاک بھارت ٹاکرے کے موقع پر سائیڈ لائن ملاقات طے کی گئی ہے، جہاں پس پردہ کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ تنازعات کو روکنے پر بات ہوگی۔ اس پیش رفت کو کرکٹ حلقوں میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام نے تصدیق کی ہے کہ آئی سی سی چاہتا ہے کہ پاکستان، بنگلہ دیش اور دیگر ایشیائی ممالک مل کر مثبت ماحول میں گفتگو کریں۔ .
مبصرین کے مطابق یہ قدم اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ حالیہ تناؤ نے ورلڈ کپ کے سب سے بڑے مقابلے پاک بھارت میچ کو غیر یقینی صورت حال سے دوچار کر دیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ابتدا میں بھارت کے خلاف گروپ میچ کے بائیکاٹ پر سنجیدگی سے غور کیا تھا، جس سے بھارتی بورڈ اور براڈکاسٹرز میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔ بعد ازاں سفارتی رابطوں اور ممکنہ مالی نقصانات کے پیش نظر معاملہ ٹھنڈا کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاک بھارت مقابلہ عالمی کرکٹ کا سب سے زیادہ منافع بخش میچ سمجھا جاتا ہے، اور اس کے بغیر ٹورنامنٹ کی مالی بنیادیں ہل سکتی تھیں۔ کروڑوں ڈالر کے براڈکاسٹ معاہدے اس ایک میچ سے جڑے ہوتے ہیں۔
آئی سی سی کی یہ پیش رفت بظاہر “کرکٹ سفارتکاری” کو بچانے کی کوشش ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا میدان کے باہر کی کشیدگی میدان کے اندر بھی اثر انداز ہوگی؟ شائقین اب کولمبو میں صرف ایک میچ نہیں بلکہ پس پردہ ہونے والی اہم ملاقاتوں پر بھی نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔
کیا یہ اقدام خطے میں کھیل کے ذریعے تعلقات کو نئی سمت دے گا یا ورلڈ کپ مزید تنازعات کی لپیٹ میں آئے گا؟ آنے والے دن فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔


















